صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
744. (511) باب ذكر خبر ثالث
اس سلسلے کی تیسری روایت کا بیان،
حدیث نمبر: Q1167
إِخَالُهُ يَسْبِقُ إِلَى قَلْبِ بَعْضِ مَنْ لَمْ يَتَبَحَّرِ الْعِلْمَ أَنَّهُ يُضَادُّ الْخَبَرَيْنِ اللَّذَيْنِ ذَكَرْتُهُمَا قَبْلُ فِي الْبَابَيْنِ الْمُتَقَدِّمَيْنِ
میرا خیال ہے کہ تبحر علمی سے محروم شخص کے دل میں یہ بات آئے گی کہ یہ روایت گذشتہ دو ابواب میں مذکورہ روایات کے خلاف ہے [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة التطوع بالليل/حدیث: Q1167]
حدیث نمبر: 1167
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَقِيقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ تِسْعَ رَكَعَاتٍ فِيهِنَّ الْوِتْرُ"
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو وتروں سمیت نو رکعات (نماز تہجّد) پڑھتے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة التطوع بالليل/حدیث: 1167]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 730، وابن الجارود فى "المنتقى"، 306، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1114، 1167، 1199، 1245، 1246، 1247، 1248، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 356، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1027، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1645، وأبو داود فى (سننه) برقم: 955، 1251، والترمذي فى (جامعه) برقم: 375، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1150، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4549، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24653»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله | صحابي | |
👤←👥عبد الله بن شقيق العقيلي، أبو محمد، أبو عبد الرحمن، أبو عامر عبد الله بن شقيق العقيلي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق | ثقة فيه نصب | |
👤←👥خالد الحذاء، أبو المنازل، أبو عبد الله خالد الحذاء ← عبد الله بن شقيق العقيلي | ثقة | |
👤←👥هشيم بن بشير السلمي، أبو معاوية هشيم بن بشير السلمي ← خالد الحذاء | ثقة ثبت كثير التدليس والإرسال الخفي | |
👤←👥أحمد بن منيع البغوي، أبو عبد الله، أبو جعفر أحمد بن منيع البغوي ← هشيم بن بشير السلمي | ثقة حافظ |
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1167 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1167
فوائد:
➊ یہ احادیث دلیل ہیں کہ نماز تہجد گیارہ اور نو رکعت بھی مسنون ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اکثر معمول گیارہ رکعت نماز وتر ادا کرنا تھا۔
➋ نماز تراویح گیارہ رکعت مسنون ہے اور زیادہ سے زیادہ نماز وتر تیرہ رکعت مسنون ہے۔ اس سے زائد نماز وتر کی گنجائش نہیں کیونکہ اس سے اضافی عدد کی کوئی واضح نص نہیں۔ لہٰذا نوافل کے بارے میں جتنی مطلق روایات ہیں، انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت مسنون عدد پر قیاس کیا جائے گا۔
➊ یہ احادیث دلیل ہیں کہ نماز تہجد گیارہ اور نو رکعت بھی مسنون ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اکثر معمول گیارہ رکعت نماز وتر ادا کرنا تھا۔
➋ نماز تراویح گیارہ رکعت مسنون ہے اور زیادہ سے زیادہ نماز وتر تیرہ رکعت مسنون ہے۔ اس سے زائد نماز وتر کی گنجائش نہیں کیونکہ اس سے اضافی عدد کی کوئی واضح نص نہیں۔ لہٰذا نوافل کے بارے میں جتنی مطلق روایات ہیں، انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت مسنون عدد پر قیاس کیا جائے گا۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1167]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1167 in Urdu
عبد الله بن شقيق العقيلي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق