صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
750. (517) باب الأمر بالاقتصاد فى صلاة التطوع وكراهة الحمل على النفس ما لا تطيقه من التطوع
نفلی نماز میں میانہ روی اور اعتدال اختیار کرنے کے حُکم کا بیان، اور نفس پر اُس کی طاقت سے زیادہ نفلی عبادت کا بوجھ ڈالنا نا پسندیدہ ہے
حدیث نمبر: 1180
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ، وَحَبْلٌ مَمْدُودٌ بَيْنَ سَارِيَتَيْنِ، فَقَالَ:" مَا هَذَا؟" قَالُوا: لِزَيْنَبَ تُصَلِّي فَإِذَا كَسِلَتْ، أَوْ فَتَرَتْ أَمْسَكَتْ بِهِ، فَقَالَ:" حُلُّوهُ"، ثُمَّ قَالَ: " لِيُصَلِّي أَحَدُكُمْ نَشَاطَهُ، فَإِذَا كَسِلَ أَوْ فَتَرَ فَلْيَقْعُدْ"
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے جبکہ ایک رسّی دوستونوں کے درمیان تنی ہوئی تھی - آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ حاضرین نے عرض کی کہ یہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی رسی ہے۔ وہ نماز پڑھتی ہیں، پھر جب تھک جاتی ہیں یا سست ہو جاتی ہیں تو اسے تھام لیتی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حُکم دیا: ”اسے کھول دو۔“ پھر فرمایا: ”تم میں سے کسی شخص کو چاہیے کہ وہ نشاط کے ساتھ اور چست ہو کر نماز ادا کرے، اور جب تھک جائے یا سست ہو جائے (تو نماز چھوڑ کر) بیٹھ جائے (اور آرام کرے۔)“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة التطوع بالليل/حدیث: 1180]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1150، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 784، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1180، 1181، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2492، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6998، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1642، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 1308، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1312، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1371، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4815، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12168»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1180 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1180
فوائد:
➊ ان احادیث میں قیام اللیل میں خشوع و خضوع اختیار کرنے کا بیان ہے اور جب تک طبیعت ہشاش ہو اور نماز میں کامل یکسوئی اور توجہ ہو تب تک قیام اللیل کا اہتمام جائز و مشروع ہے اور جب یکسوئی نہ رہے اور نیند کا غلبہ ہو جائے تب سونا اور قیام ترک کرنا افضل ہے۔
➋ اپنی طاقت و بساط کے مطابق عبادت کرنا مشروع ہے اور جس وظیفہ پر اہتمام نہ کیا جائے یا اس پر عمل کوفت اور ایذا کا باعث ہو اسے ترک کرنا افضل ہے۔
➊ ان احادیث میں قیام اللیل میں خشوع و خضوع اختیار کرنے کا بیان ہے اور جب تک طبیعت ہشاش ہو اور نماز میں کامل یکسوئی اور توجہ ہو تب تک قیام اللیل کا اہتمام جائز و مشروع ہے اور جب یکسوئی نہ رہے اور نیند کا غلبہ ہو جائے تب سونا اور قیام ترک کرنا افضل ہے۔
➋ اپنی طاقت و بساط کے مطابق عبادت کرنا مشروع ہے اور جس وظیفہ پر اہتمام نہ کیا جائے یا اس پر عمل کوفت اور ایذا کا باعث ہو اسے ترک کرنا افضل ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1180]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1180 in Urdu
عبد العزيز بن صهيب البناني ← أنس بن مالك الأنصاري