🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
95. ‏(‏95‏)‏ بَابُ إِبَاحَةِ الْوُضُوءِ وَالْغُسْلِ فِي أَوَانِي النُّحَاسِ
پیتل کے برتن میں وضوء اور غسل کرنا جائز ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 123
نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّزَّاقِ ، وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ: نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِي اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ: " صُبُّوا عَلَيَّ مِنْ سَبْعِ قِرَبٍ لَمْ تُحْلَلْ أَوْكِيَتُهُنَّ لَعَلِّي أَسْتَرِيحُ، فَأَعْهَدُ إِلَى النَّاسِ" . قَالَتْ عَائِشَةُ: فَأَجْلَسْنَاهُ فِي مِخْضَبٍ لِحَفْصَةَ مِنْ نُحَاسٍ، وَسَكَبْنَا عَلَيْهِ الْمَاءَ مِنْهُنَّ، حَتَّى طَفِقَ يُشِيرُ إِلَيْنَا أَنْ قَدْ فَعَلْتُنَّ، ثُمَّ خَرَجَ. حَدَّثَنَا بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى مَرَّةً، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ مَرَّةً، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ بِمِثْلِهِ، غَيْرُ أَنَّهُ لَمْ يَقُلْ مِنْ نُحَاسٍ، وَلَمْ يَقُلْ ثُمَّ خَرَجَ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اس بیماری میں فرمایا جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے”مجھ پر سات مشکیزوں کا پانی ڈالو جن کے بندھن (ڈوری، تحسہ) نہ کھولے گئے ہوں شاید کہ میں سکون پاؤں تو لوگوں کو وصیت کروں۔ “ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پیتل کے ٹب میں بٹھایا اور اُن کے مشکیزوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پانی ڈالا، حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف اشارہ کرنے لگے کہ تم نے (حُکم) کی تعمیل کر دی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے گئے۔ امام صاحب ایک اور سند سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایسی ہی روایت بیان کرتے ہیں مگر اس میں یہ الفاظ بیان نہیں کیے «‏‏‏‏من نحاس» ‏‏‏‏ ”پیتل کا ٹب“ اور «‏‏‏‏ثم خرج» ‏‏‏‏ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے گئے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأواني اللواتي يتوضأ فيهن أو يغتسل/حدیث: 123]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 198، 664، 665، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 418، وابن الجارود فى "المنتقى"، 13، 359، 361، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 123، 257، 258، 1616، 1618، 1620، 1621، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2116، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 512، والترمذي فى (جامعه) برقم: 362، 3496، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1232، 1233، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1483، وأحمد فى (مسنده) برقم: 5236»


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← عروة بن الزبير الأسدي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروة
Newمعمر بن أبي عمرو الأزدي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة ثبت فاضل
👤←👥عبد الرزاق بن همام الحميري، أبو بكر
Newعبد الرزاق بن همام الحميري ← معمر بن أبي عمرو الأزدي
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن رافع القشيري، أبو عبد الله
Newمحمد بن رافع القشيري ← عبد الرزاق بن همام الحميري
ثقة
👤←👥محمد بن يحيى الذهلي، أبو عبد الله
Newمحمد بن يحيى الذهلي ← محمد بن رافع القشيري
ثقة حافظ جليل
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 123 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 123
فوائد:
➊ برتنوں کے استعمال میں یہ بات ذہن نشین رہے کہ تمام برتنوں کا استعمال جائز و حلال ہے، الا یہ کہ کسی برتن کی حرمت ثابت ہو، تو اس کا استعمال حرام ہے۔
لہٰذا تانبے اور پیتل کے برتنوں میں غسل اور وضو کے لیے پانی رکھنا اور انہیں زیرِ استعمال لانا مکروہ و ممنوع نہیں، بلکہ حدیث الباب کی رو سے تانبے اور پیتل کے برتن غسل و وضو کے لیے استعمال کرنا جائز ہیں۔
➋ حصولِ شفا کے لیے مختلف سات مشکیزوں کا پانی لے کر غسل کرنا جائز و مستحب ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 123]

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 123 in Urdu