صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
809. (576) بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ نَهْيَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ نَهْيٌ خَاصٌّ لَا عَامٌّ،
اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نمازِ صبح کے بعد طلوع شمس تک اور نماز عصر کے بعد غروب شمس تک نماز پڑھنے سے منع کرنا، یہ ایک خاص ممانعت ہے، عام نہیں،
حدیث نمبر: 1279
وَفِي خَبَرِ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الأَسْوَدِ السُّوَائِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِلرَّجُلَيْنِ بَعْدَ فَرَاغِهِ مِنْ صَلاةِ الْفَجْرِ: " إِذَا صَلَّيْتُمَا فِي رِحَالِكُمَا، ثُمَّ جِئْتُمَا وَالإِمَامُ يُصَلِّي فَصَلِّيَا مَعَهُ، تَكُونُ لَكُمَا نَافِلَةً" ، سَأُخَرِّجُهُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِتَمَامِهِ. ناهُ يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، قَالا: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ السُّوَائِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْخَبَرِ قَدْ أَمَرَ مَنْ صَلَّى الْفَجْرَ فِي رَحْلِهِ أَنْ يُصَلِّيَ مَعَ الإِمَامِ، وَأَعْلَمَ أَنَّ صَلاتَهُ تَكُونُ مَعَ الإِمَامِ نَافِلَةً فَلَوْ كَانَ النَّهْيُ عَنِ الصَّلاةِ بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ نَهْيًا عَامًّا لا نَهْيًا خَاصًّا، لَمْ يُجِزْ لِمَنْ صَلَّى الْفَجْرَ فِي الرَّحْلِ أَنْ يُصَلِّيَ مَعَ الإِمَامِ فَيَجْعَلَهَا تَطَوُّعًا، وَأَخْبَارُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَيَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ يُؤَخِّرُونَ الصَّلاةَ عَنْ وَقْتِهَا، فَصَلَّوَا الصَّلاةَ لِوَقْتِهَا، وَاجْعَلُوا صَلاتَكُمْ مَعَهُمْ سُبْحَةً"، فِيهَا دِلالَةٌ عَلَى أَنَّ الإِمَامَ إِذَا أَخَّرَ الْعَصْرَ أَوِ الْفَجْرَ أَوْ هُمَا، إِنَّ عَلَى الْمَرْءِ أَنْ يُصَلِّيَ الصَّلاتَيْنِ جَمِيعًا لِوَقْتِهِمَا، ثُمَّ يُصَلِّي مَعَ الإِمَامِ وَيَجْعَلُ صَلاتَهُ مَعَهُ سُبْحَةً، وَهَذَا تَطَوُّعٌ بَعْدَ الْفَجْرِ، وَبَعْدَ الْعَصْرِ، وَقَدْ أَمْلَيْتُ قَبْلُ خَبَرَ قَيْسِ بْنِ قَهْدٍ، وَهُوَ مِنْ هَذَا الْجِنْسِ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ زَجَرَ بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ، وَبَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَنْ يَمْنَعُوا أَحَدًا يُصَلِّي عِنْدَ الْبَيْتِ أَيَّ سَاعَةٍ شَاءَ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ
جناب یزید بن اسود السوائی کی روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر کی ادائیگی کے بعد دو آدمیوں سے فرمایا: ”جب تم اپنی رہائش گاہوں پر نماز پڑھ لو پھر تم (مسجد میں) آؤ جبکہ امام نماز پڑھا رہا ہو تو تم اسے کے ساتھ نماز پڑھ لیا کرو، وہ تمہارے لئے نفل بن جائے گی۔ میں عنقریب یہ روایت مکمّل بیان کر دوں گا۔ ان شاء اللہ۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس روایت میں اس شخص کو امام کے ساتھ نماز پڑھنے کا حُکم دیا ہے جو نماز فجر اپنی رہائش گاہ پر پڑھ چکا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا کہ امام کے ساتھ اس کی نماز نفل ہو جائے گی لہٰذا اگر نماز فجر کے بعد طلوع آفتاب تک نماز پڑھنے کی مما نعت عام ہوتی، خاص نہ ہوتی تو جو شخص اپنی رہائش گاہ میں فجر پڑھ چکا ہو اُس کے لئے امام کے ساتھ (دوبارہ) نماز فجر کو نفل بناتے ہوئے ادا کرنا جائز نہ ہوتا۔ نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ احادیث کہ عنقریب تم پر ایسے حکمران اور امراء مقرر ہوں گے جو نمازوں کو ان کے اوقات سے مؤخر کریں گے، تو تم نماز کو اُس کے وقت پر ادا کرلو اور اُن کے ساتھ اپنی نماز کو نفل شمار کرلو۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ جب امام نماز عصر، یا نماز فجر، یا دونوں کو مؤخر کرکے ادا کرتا ہو تو آدمی پر واجب ہے کہ وہ دونوں نمازیں ان کے وقت پر ادا کرلے۔ پھر امام کے ساتھ بھی ادا کرلے اور امام کے ساتھ پڑھنے والی نماز کو نفل بنالے۔ اور یہ فجر اور عصر کے بعد نفل نماز ہوگی اور میں اس سے پہلے حضرت قیس بن قہد کی حدیث بھی لکھوا چکا ہوں۔ وہ بھی اسی قسم سے تعلق رکھتی ہے۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی عبد مناف اور بنی عبدالمطلب کو منع کیا ہے کہ بیت اللہ میں دن یا رات کی کسی بھی گھڑی میں نماز پڑھنے والے کو روکیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأوقات التى ينهى عن صلاة التطوع فيهن/حدیث: 1279]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1279، 1638، 1713، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1564، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 899، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 857، وأبو داود فى (سننه) برقم: 575، والترمذي فى (جامعه) برقم: 219، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1407، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3048، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1532، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17746»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1279 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1279
فوائد:
➊ جو شخص انفرادی طور پر کوئی فرض نماز پڑھ چکا ہو، پھر اسے مسجد میں باجماعت نماز مل جائے، تو اسے جماعت میں شامل ہو کر نماز ادا کرنی چاہیے اور اس کی یہ نماز باجماعت نفل اور تنہا ادا کی گئی نماز فرض شمار ہوگی۔
➋ اگر کوئی شخص فجر و عصر کی فرض نماز پڑھ لینے کے بعد مسجد میں داخل ہوا اور وہاں جماعت کھڑی ہو تو نماز میں شامل ہونا مستحب فعل ہے اور یہ عمل فجر و عصر کے بعد نوافل ادا کرنے کی ممانعت میں داخل نہیں ہے۔
➊ جو شخص انفرادی طور پر کوئی فرض نماز پڑھ چکا ہو، پھر اسے مسجد میں باجماعت نماز مل جائے، تو اسے جماعت میں شامل ہو کر نماز ادا کرنی چاہیے اور اس کی یہ نماز باجماعت نفل اور تنہا ادا کی گئی نماز فرض شمار ہوگی۔
➋ اگر کوئی شخص فجر و عصر کی فرض نماز پڑھ لینے کے بعد مسجد میں داخل ہوا اور وہاں جماعت کھڑی ہو تو نماز میں شامل ہونا مستحب فعل ہے اور یہ عمل فجر و عصر کے بعد نوافل ادا کرنے کی ممانعت میں داخل نہیں ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1279]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1279 in Urdu
هشيم بن بشير السلمي ← يعلى بن عطاء العامري