صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
101. (101) باب الأمر بتسمية الله- عز وجل- عند تخمير الأواني، والعلة التى من أجلها أمر النبى صلى الله عليه وسلم بتخمير الإناء
برتنوں کو ڈھانپتے وقت بسم اللہ پڑھنے کا حکم ہے اور اس علت کا بیان جس کی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن ڈھانپنے کا حکم دیا ہے
حدیث نمبر: 132
نا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نا جَرِيرٌ ، عَنْ فِطْرِ بْنِ خَلِيفَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَغْلِقُوا أَبْوَابَكُمْ، وَأَوْكُوا أَسْقِيَتَكُمْ، وَخَمِّرُوا آنِيَتَكُمْ، وَأَطْفِئُوا سُرُجَكُمْ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لا يَفْتَحُ غَلَقًا، وَلا يَحُلُّ وِكَاءً، وَلا يَكْشِفُ غِطَاءً، وَإِنَّ الْفُوَيْسِقَةَ رُبَّمَا أَضْرَمَتْ عَلَى أَهْلِ الْبَيْتِ بَيْتَهُمْ نَارًا، وَكُفُّوا فَوَاشِيَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ عِنْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ إِلَى أَنْ تَذْهَبَ فَجْوَةُ الْعِشَاءِ" . قَالَ لَنَا يُوسُفُ: فَحْوَةُ الْعِشَاءِ، وَهَذَا تَصْحِيفٌ، وَإِنَّمَا هُوَ فَجْوَةُ الْعِشَاءِ وَهِيَ: اشْتِدَادُ الظَّلامِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَفِي الْخَبَرِ دَلالَةٌ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا أَمَرَ بِتَغْطِيَةِ الأَوَانِي، وَإِيكَاءِ الأَسْقِيَةِ، إِذِ الشَّيْطَانُ لا يَحُلُّ وِكَاءَ السِّقَاءِ، وَلا يَكْشِفُ غِطَاءَ الإِنَاءِ، لا أَنَّ تَرْكَ تَغْطِيَةِ الإِنَاءِ مَعْصِيَةٌ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَلا أَنَّ الْمَاءَ يَنْجُسُ بِتَرْكِ تَغْطِيَةِ الإِنَاءِ، إِذِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَعْلَمَ أَنَّ الشَّيْطَانَ إِذَا وَجَدَ السِّقَاءَ غَيْرَ مُوكَإٍ شَرِبَ مِنْهُ، فَيُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَمَرَ بِإِيكَاءِ السِّقَاءِ وَتَغْطِيَةِ الإِنَاءِ، وَأَعْلَمَ أَنَّ الشَّيْطَانَ إِذَا وَجَدَ السِّقَاءَ غَيْرَ مُوكَأٍ شَرِبَ مِنْهُ، كَانَ فِي هَذَا مَا دَلَّ عَلَى أَنَّهُ إِذَا وَجَدَ الإِنَاءَ غَيْرَ مُغَطًّى شَرِبَ مِنْهُ. حَدَّثَنَا بِالْخَبَرِ الَّذِي ذَكَرْتُ مِنْ إِعْلامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا وَجَدَ السِّقَاءَ غَيْرَ مُوكَأٍ شَرِبَ مِنْهُ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(رات کے وقت) اپنے دروازے بند کرو، مشکیزے باندھ دو، برتن ڈھانپ دو،چراغ بجھا دو، کیونکہ شیطان بند (دروازہ) نہیں کھولتا، اور نہ رسّی کھولتا ہے، اور نہ ڈھکن اُٹھاتا ہے،اور بعض اوقات چوہیا گھر والوں پر ان کے گھر کو آگ لگا کر جلا دیتی ہے۔ اور اپنے جانوروں اور گھر والوں (بچّوں) کو غروب آفتاب سے لے کر عشاء کے اندھیرے چھا جانے تک روکے رکھو (اُنہیں باہر جانے کی اجازت نہ دو) امام صاحب فرماتے ہیں کہ ہمیں استاد یوسف نے بیان کیا ہے کہ «فحوۃالعشاء» تصحیف ہے، اصل لفظ «فجوۃ العشاء» ہے جس کے معنی”عشاء کے اندھیروں کی شدت ہے“۔ امام ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن ڈھانپنے، اور مشکیزوں کے منہ باندھنے کا حکم اس لیے دیا ہے کیونکہ شیطان مشکیزے کا سر بندھن نہیں کھولتا اور نہ برتن کا ڈھکن اُٹھاتا ہے، اس لیے کہ برتن ڈھانپنا اللہ تعالی کی نافرمانی ہے اورنہ اس لیے کہ برتن نہ ڈھانپنے سے پانی ناپاک ہوجاتا ہے۔ کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہےکہ ”شیطان جب مشکیزہ کھلا ہوا پاتا ہےتواس سے پی لیتا ہے۔“ یہ اس بات کے مشابہ ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکیزوں کے منہ باندھنے اور برتنوں کو ڈھانپنے کا حکم دیا اور بیان فرما دیا کہ شیطان کھلے مشکیزے سے پی لیتا ہے تو اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ جب وہ برتن بغیر ڈھانپے ہوئے پائے گا تو اس سے بھی پی لے گا۔ امام صاحب فرماتے ہیں کہ ہمیں یہ حدیث بیان کی گئی ہے جو میں نے ذکر کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا ہے کہ ”شیطان کھلا مشکیزہ پائے گا تو وہ اُس سے پی لے گا۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأواني اللواتي يتوضأ فيهن أو يغتسل/حدیث: 132]
تخریج الحدیث: صحيح مسلم
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 132 in Urdu
محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري