🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
878. (645) بَابُ ذِكْرُ عَدَدِ الرُّكُوعِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ مِنْ صَلَاةِ الْكُسُوفِ
نمازِ کسوف کی ہر رکعت میں رکوع کی تعداد کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1385
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا حَبِيبٌ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُ صَلَّى فِي كُسُوفٍ، فَقَرَأَ، ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ قَرَأَ، ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ قَرَأَ، ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ قَرَأَ، ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ سَجَدَ وَالأُخْرَى مَثَلُهَا" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَدْ خَرَّجْتُ طُرُقَ هَذِهِ الأَخْبَارِ فِي كِتَابِ الْكَبِيرُ، فَجَائِزٌ لِلْمَرْءِ أَنْ يُصَلِّيَ فِي الْكُسُوفِ كَيْفَ أَحَبَّ، وَشَاءَ مِمَّا فَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَدَدِ الرُّكُوعِ، إِنْ أَحَبَّ رَكَعَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ رُكُوعَيْنِ، وَإِنْ أَحَبَّ رَكَعَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ ثَلاثَ رَكَعَاتٍ، وَإِنْ أَحَبَّ رَكَعَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ ؛ لأَنَّ جَمِيعَ هَذِهِ الأَخْبَارِ صِحَاحٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهَذِهِ الأَخْبَارُ دَالَّةٌ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ مَرَّاتٍ لا مَرَّةً وَاحِدَةً
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کسوف پڑھائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قراءت کی پھر رکوع کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاوت کی پھر رکوع کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قراءت کی پھر رکوع کیا، پھر قرآن پڑھا، پھر رکوع کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدے کیے، دوسری رکعت بھی اسی طرح ادا کی۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ میں نے ان روایات کی اسانید کتاب الکبیر میں میں بیان کر دی ہیں۔ لہٰذا آدمی کے لئے جائز ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کے مطابق نماز کسوف میں جتنے رکوع پسند کرے جو چاہے ادا کرلے۔ اگر وہ ہر رکعت میں دو رکوع کرنا پسند کرے تو دو رکوع کرلے۔ اور اگر چاہے تو ہر رکعت میں تین رکوع کرے۔ اور اگر پسند کرے تو ہر رکعت میں چار رکوع کرے۔ کیونکہ یہ تمام روایات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح ثابت ہیں۔ اور یہ روایات اس بات کی دلیل ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گرہن میں ایک مرتبہ نہیں بلکہ کئی مرتبہ نماز کسوف پڑھی ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة الكسوف/حدیث: 1385]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 908، 909، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1385، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1466، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1183، والترمذي فى (جامعه) برقم: 560، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1567، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6414، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1791، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2000»


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥طاوس بن كيسان اليماني، أبو عبد الرحمن
Newطاوس بن كيسان اليماني ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة إمام فاضل
👤←👥حبيب بن أبي ثابت الأسدي، أبو يحيى
Newحبيب بن أبي ثابت الأسدي ← طاوس بن كيسان اليماني
ثقة فقيه جليل
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← حبيب بن أبي ثابت الأسدي
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد القطان ← سفيان الثوري
ثقة متقن حافظ إمام قدوة
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى
Newمحمد بن المثنى العنزي ← يحيى بن سعيد القطان
ثقة ثبت
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1385 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1385
فوائد:
➊ ان احادیث میں نمازِ کسوف کی مختلف صورتوں کا بیان ہے اور بعض روایات میں ایک رکعت میں تین، بعض میں چار اور بعض میں پانچ رکوعات کا بیان ہے، لیکن اکثر روایات میں ہر رکعت میں دو رکوع اور دو رکعتوں میں چار رکوعات کا بیان ہے، چنانچہ شافعی، مالک، لیث، احمد، ابوثور اور جمہور علماء رحمہم اللہ نے اسی موقف کو اختیار کیا ہے کہ نمازِ کسوف میں ہر رکعت میں دو قیام اور دو رکوع مسنون ہیں۔
➋ ◈ ابن عبد البر رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ موقف راجح ہے اور باقی روایات صحیح روایات کے مخالف اور معلل و ضعیف ہیں۔
نیز علامہ البانی رحمہ اللہ نے بھی اسی موقف کو ترجیح دی ہے اور باقی روایات کو شاذ قرار دیا ہے۔ [شرح النووي: 197/6]
➌ ◈ شوکانی رحمہ اللہ کہتے ہیں: اگر سورج گہن کے متعدد واقعات ہوں تو جن روایات میں کثرتِ رکوعات کا بیان ہے ان کو حجت پکڑنا درست ہے کیونکہ اس صورت میں روایات میں اختلاف نہیں ہے۔
لیکن اگر واقعہ ایک ہی ہے تو ترجیح کی صورت اختیار کرنا لازم ہے، اور جن روایات میں ہر رکعت میں دو رکوعات کا بیان ہے وہ ترجیح بین الاحادیث کے اعتبار سے راجح ہیں۔ [نیل الأوطار: 347/3]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1385]

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1385 in Urdu