صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
900. (667) باب صفة تحويل الرداء فى الاستسقاء إذا كان الرداء ثقيلا
استسقاء میں چادر پلٹنے کی کیفیت کا بیان جبکہ چادر بھاری ہو
حدیث نمبر: 1414
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، وَيَحْيَى ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ ، فَقُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ : حَدِيثٌ حَدَّثَنَاهُ يَحْيَى، وَالْمَسْعُودِيُّ، عَنْ أَبِيكَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، قَالَ: أَنَا سَمِعْتُهُ مِنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، يُحَدِّثُ أَبِي، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " خَرَجَ إِلَى الْمُصَلَّى فَاسْتَسْقَى، فَقَلَبَ رِدَاءَهُ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ" . قَالَ الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، قُلْتُ لَهُ: أَخْبِرْنَا جَعَلَ أَعْلاهُ أَسْفَلَهُ، أَوْ أَسْفَلَهُ أَعْلاهُ، أَمْ كَيْفَ جَعَلَهُ؟ قَالَ: لا، بَلْ جَعَلَ الْيَمِينَ الشِّمَالَ وَالشِّمَالَ الْيَمِينَ
سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عیدگاہ کی طرف نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بارش کی دعا کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر کو پلٹا اور دو رکعت نماز ادا کی۔ حدیث کے راوی ابوبکر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عباد بن تمیم سے کہا، آپ ہمیں بتائیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چادر کے اوپر والے حصّے کو نیچے کیا تھا یا اس کے نیچے والے حصّے کو اوپر کیا تھا، یا اُسے کیسے پلٹا تھا؟ اُنہوں نے فرمایا کہ نہیں، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دائیں جانب کو بائیں جانب اور بائیں جانب کو دائیں جانب کیا تھا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة الاستسقاء وما فيها من السنن/حدیث: 1414]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1005، 1011، 1012، 1023، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 894، ومالك فى (الموطأ) برقم: 646، وابن الجارود فى "المنتقى"، 281، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1406، 1407، 1410، 1414، 1415، 1420، 1424، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2864، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1225، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1504، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1161، والترمذي فى (جامعه) برقم: 556، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1267، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1799، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16695»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1414 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1414
فوائد:
بارش طلبی کی دعا میں ہاتھ اٹھانے کا طریقہ عام ادعیہ میں ہاتھ اٹھانے سے دو طرح مختلف ہے۔
➊ بارش طلبی کی دعا میں ہاتھوں کی ہتھیلیاں زمین کی طرف اور پشت آسمان کی طرف ہوں گی، اس سے یہ نیک شگون لیا جاتا ہے کہ قحط سالی کا خاتمہ ہو جائے اور شادابی کا دور دورہ ہو۔
➋ ہاتھوں کو بہت زیادہ کھینچا اور پھیلایا جائے گا، حتیٰ کہ بغلوں کی سفیدی نظر آئے، جب کہ دیگر ادعیہ میں یہ طریقہ مسنون نہیں ہے۔
بارش طلبی کی دعا میں ہاتھ اٹھانے کا طریقہ عام ادعیہ میں ہاتھ اٹھانے سے دو طرح مختلف ہے۔
➊ بارش طلبی کی دعا میں ہاتھوں کی ہتھیلیاں زمین کی طرف اور پشت آسمان کی طرف ہوں گی، اس سے یہ نیک شگون لیا جاتا ہے کہ قحط سالی کا خاتمہ ہو جائے اور شادابی کا دور دورہ ہو۔
➋ ہاتھوں کو بہت زیادہ کھینچا اور پھیلایا جائے گا، حتیٰ کہ بغلوں کی سفیدی نظر آئے، جب کہ دیگر ادعیہ میں یہ طریقہ مسنون نہیں ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1414]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1414 in Urdu
عباد بن تميم المازني ← عبد الله بن زيد الأنصاري