صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
957. (6) بَابُ ذِكْرِ الْبَيَانِ أَنَّ مَا كَثُرَ مِنَ الْعَدَدِ فِي الصَّلَاةِ جَمَاعَةً كَانَتِ الصَّلَاةُ أَفْضَلَ
اس بات کا بیان کہ نماز باجماعت میں جتنے لوگ زیادہ ہوں گے، وہ اتنی ہی افضل ہوگی
حدیث نمبر: 1477
نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي بَصِيرٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ، فَقَالَ:" أَشَاهِدٌ فُلانٌ؟"، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ:" وَمَا كَانَ أَكْثَرَ فَهُوَ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ"
سید نا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھائی اور پوچھا: ”کیا فلاں آدمی حاضر ہے؟“ آگے بقیہ حدیث بیان کی جس کے آخر میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(نماز میں) جتنے آدمی زیادہ ہوں گے اتنی ہی اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب ہو گی۔“ [صحيح ابن خزيمه/كتاب الإمامة فى الصلاة وما فيها من السنن مختصر من كتاب المسند/حدیث: 1477]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1476، 1477، 1553، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2056، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 911، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 842، وأبو داود فى (سننه) برقم: 554، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 790، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5043، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21657»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1477 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1477
فوائد:
➊ دو آدمیوں کا با جماعت نماز پڑھنا اکیلے شخص کی نماز سے زیادہ اجر و ثواب اور گناہوں کی زیادہ تطہیر کا باعث ہے، کیونکہ تنہا شخص کی بجائے جماعت پر رحمت اور سکینت نازل ہوتی ہے۔
➋ نماز با جماعت میں کثرتِ عدد، قلتِ عدد سے افضل ہے۔
نماز کے لیے بڑی جماعتوں کی فضیلت کے مختلف درجات ہوتے ہیں۔
البتہ مطلق جماعت سے ستائیس گنا نماز کا ثواب حاصل ہو جاتا ہے۔
پھر نمازیوں کی کثرت سے اس میں مزید اضافہ اور اجر و ثواب میں بڑھوتری ہوتی ہے۔
➊ دو آدمیوں کا با جماعت نماز پڑھنا اکیلے شخص کی نماز سے زیادہ اجر و ثواب اور گناہوں کی زیادہ تطہیر کا باعث ہے، کیونکہ تنہا شخص کی بجائے جماعت پر رحمت اور سکینت نازل ہوتی ہے۔
➋ نماز با جماعت میں کثرتِ عدد، قلتِ عدد سے افضل ہے۔
نماز کے لیے بڑی جماعتوں کی فضیلت کے مختلف درجات ہوتے ہیں۔
البتہ مطلق جماعت سے ستائیس گنا نماز کا ثواب حاصل ہو جاتا ہے۔
پھر نمازیوں کی کثرت سے اس میں مزید اضافہ اور اجر و ثواب میں بڑھوتری ہوتی ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1477]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1477 in Urdu
عبد الله بن أبي بصير العبدي ← أبي بن كعب الأنصاري