صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
966. (15) باب فضل المشي إلى الجماعة متوضيا وما يرجى فيه من المغفرة
جماعت کے لئے وضو کر کے جانے کی فضیلت اور اس میں گناہوں کی مغفرت کی اُمید کا بیان
حدیث نمبر: 1489
نَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ ، نَا شُعَيْبٌ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، نَا أَبِي ، وَشُعَيْبٌ ، قَالا: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، وَنَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ التَّمِيمِيِّ ، عَنْ حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ تَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ مَشَى إِلَى صَلاةٍ مَكْتُوبَةٍ فَصَلاهَا مَعَ الإِمَامِ، غُفِرَ لَهُ ذَنْبُهُ"
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس شخص نے مکمّل وضو کیا پھر وہ فرض نماز ادا کرنے کے لئے گیا اور اُسے امام کے ساتھ (باجماعت) ادا کرے تو اُس کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔“ [صحيح ابن خزيمه/كتاب الإمامة فى الصلاة وما فيها من السنن مختصر من كتاب المسند/حدیث: 1489]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 159، 160، 164، 1934، 6433، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 226، وابن الجارود فى "المنتقى"، 74، 79، 80، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2، 3، 151، 152، 158، 167، 1489، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 360، 1041، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 529، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 84، وأبو داود فى (سننه) برقم: 106، والترمذي فى (جامعه) برقم: 31، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 285، 285 م، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 214، والدارقطني فى (سننه) برقم: 271، وأحمد فى (مسنده) برقم: 407»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1489 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1489
فوائد:
➊ مکرر حدیث۔
➋ نیز یہ حدیث دلیل ہے کہ گھر سے باوضو ہو کر نماز باجماعت میں شامل ہونے کے ارادے سے چلنے والے شخص کے تمام صغیرہ گناہ مٹ جاتے ہیں۔
➌ اس لیے نماز باجماعت میں شامل ہونے کے لیے گھر سے وضو کر کے جانا افضل ہے۔
➊ مکرر حدیث۔
➋ نیز یہ حدیث دلیل ہے کہ گھر سے باوضو ہو کر نماز باجماعت میں شامل ہونے کے ارادے سے چلنے والے شخص کے تمام صغیرہ گناہ مٹ جاتے ہیں۔
➌ اس لیے نماز باجماعت میں شامل ہونے کے لیے گھر سے وضو کر کے جانا افضل ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1489]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1489 in Urdu
حمران بن أبان النمري ← عثمان بن عفان