صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
995. (44) باب إيذان المؤذن الإمام بالصلاة
مؤذّن کا امام کو نماز کے وقت کی اطلاع دینا
حدیث نمبر: 1524
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، وَسَعِيدُ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ ، قَالا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، قَالَ: سَمِعْتُ كُرَيْبًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، فَصَلَّى يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ اضْطَجَعَ، فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ، ثُمَّ أَتَاهُ الْمُؤَذِّنُ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلاةِ، فَخَرَجَ فَصَلَّى" . هَذَا حَدِيثُ عَبْدِ الْجَبَّارِ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں اپنی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر رات کو سویا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز تہجد پڑھی، جس قدر اللہ نے چاہی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ گئے اور سو گئے حتّیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خراٹے لینے لگے۔ پھر مؤذن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کی نماز کی اطلاع کرنے کے لئے آیا۔ لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے اور نماز پڑھائی۔ یہ عبدالجبار کی حدیث ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب الإمامة فى الصلاة وما فيها من السنن مختصر من كتاب المسند/حدیث: 1524]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 117، 138، 183، 697، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 256،، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 127، 448، 449، 884، 1093، 1094، 1103، 1119، 1121، 1524، 1533، 1534، 1675، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1445، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6335، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 441، وأبو داود فى (سننه) برقم: 58، 610، والترمذي فى (جامعه) برقم: 232، 3419، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 423، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 315، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1868»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1524 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1524
فوائد:
➊ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نیند سے وضو نہیں ٹوٹتا تھا۔ انبیاء علیہم السلام کا نیند کی حالت میں بھی دل جاگتا ہے، اس لیے انہیں وضو کے ٹوٹنے اور نہ ٹوٹنے کی خبر ہوتی ہے، جبکہ غیر نبی اگر ٹیک لگا کر یا لیٹ کر سو جائے تو اسے حکم ہے کہ وہ دوبارہ وضو کر لے۔
➋ مؤذن کا امام کو نماز سے آگاہ کرنا اور قیامِ جماعت کا اہتمام کرنا جائز ہے، اور یہ مؤذن کی ذمہ داری میں شامل ہے۔
➊ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نیند سے وضو نہیں ٹوٹتا تھا۔ انبیاء علیہم السلام کا نیند کی حالت میں بھی دل جاگتا ہے، اس لیے انہیں وضو کے ٹوٹنے اور نہ ٹوٹنے کی خبر ہوتی ہے، جبکہ غیر نبی اگر ٹیک لگا کر یا لیٹ کر سو جائے تو اسے حکم ہے کہ وہ دوبارہ وضو کر لے۔
➋ مؤذن کا امام کو نماز سے آگاہ کرنا اور قیامِ جماعت کا اہتمام کرنا جائز ہے، اور یہ مؤذن کی ذمہ داری میں شامل ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1524]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1524 in Urdu
كريب بن أبي مسلم القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي