صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
998. (47) باب الرخصة فى كلام الإمام بعد الفراغ من الإقامة، والحاجة تبدو لبعض الناس
اقامت سے فارغ ہونے کے بعد امام بات چیت کرسکتا ہے جبکہ کسی شخص کو ضرورت پیش آجائے
حدیث نمبر: 1527
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسٍ . ح وَحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، نا ابْنُ عُلَيَّةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" أُقِيمَتِ الصَّلاةُ وَرَجُلٌ يُنَاجِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى نَامَ أَصْحَابُهُ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى" . وَقَالَ الدَّوْرَقِيُّ:" أُقِيمَتِ الصَّلاةُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَجِيٌّ بِرَجُلٍ فِي جَانِبِ الْمَسْجِدِ، فَمَا قَامَ إِلَى الصَّلاةِ حَتَّى نَامَ بَعْضُ الْقَوْمِ"
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نماز کی اقامت کہہ دی گئی اور ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کرنے لگا، حتّیٰ کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سو گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور نماز پڑھائی۔ جناب الدورقی کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ نماز کی اقامت ہو گئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے کونے میں ایک شخص کے ساتھ آہستہ آہستہ باتیں کر رہے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے اُس وقت کھڑے ہوئے جبکہ کچھ لوگ سو چکے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب الإمامة فى الصلاة وما فيها من السنن مختصر من كتاب المسند/حدیث: 1527]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 642، 643، 6292، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 376، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1527، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2035، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 790، وأبو داود فى (سننه) برقم: 201، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 598، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12169»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1527 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1527
فوائد:
➊ اگر کوئی شخص انفرادی طور پر نماز شروع کرے اور بعد میں آنے والے لوگ اس کی اقتداء میں نماز شروع کر دیں، تو اس صورت میں امامت کا اہتمام کرنا جائز ہے اور انہیں نماز باجماعت کا ثواب ملے گا۔
➋ امام اور مقتدیوں کے درمیان پردہ وغیرہ حائل ہو تو اس سے نماز باجماعت میں نقص واقع نہیں ہوتا۔
➌ دائمی قلیل عمل ایسے کثیر عمل سے بہتر ہے جس میں انقطاع واقع ہو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معمول تھا کہ جس عمل کو شروع کرتے اس پر دوام اختیار کرتے تھے۔
➊ اگر کوئی شخص انفرادی طور پر نماز شروع کرے اور بعد میں آنے والے لوگ اس کی اقتداء میں نماز شروع کر دیں، تو اس صورت میں امامت کا اہتمام کرنا جائز ہے اور انہیں نماز باجماعت کا ثواب ملے گا۔
➋ امام اور مقتدیوں کے درمیان پردہ وغیرہ حائل ہو تو اس سے نماز باجماعت میں نقص واقع نہیں ہوتا۔
➌ دائمی قلیل عمل ایسے کثیر عمل سے بہتر ہے جس میں انقطاع واقع ہو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معمول تھا کہ جس عمل کو شروع کرتے اس پر دوام اختیار کرتے تھے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1527]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1527 in Urdu
عبد العزيز بن صهيب البناني ← أنس بن مالك الأنصاري