الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
119. ( 118) باب استحباب صك الوجه بالماء عند غسل الوجه.
چہرہ دھوتے وقت چہرے کو پانی سے اچھی طرح ملنا مستحب ہے۔
حدیث نمبر: 153
نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، نا ابْنُ عُلَيَّةَ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ الْخَوْلانِيُّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: دَخَلَ عَلِيٌّ عَلَيَّ بَيْتِي، وَقَدْ بَالَ فَدَعَا بِوَضُوءٍ، فَجِئْنَاهُ بِقُعبْ يَأْخُذُ الْمُدَّ أَوْ قَرِيبَهُ، حَتَّى وُضِعَ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، أَلا أَتَوَضَّأُ لَكَ وُضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقُلْتُ: بَلَى فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي، قَالَ:" فَوَضَعَ لَهُ إِنَاءً فَغَسَلَ يَدَيْهِ، ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَاسْتَنْثَرَ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَمِينِهِ يَعْنِي الْمَاءَ فَصَكَّ بِهَا وَجْهَهُ" . وَذَكَرَ الْحَدِيثَ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ میرے پاس میرے گھر تثر یف لا ئے، اوروہ پیشاب کر چکے تھے، تو اُنہوں نے پا نی منگوایا، ہم آپ کے پاس ایک بڑا پیالہ لیکر آئے جس میں ایک مد یا اس کے قریب پانی سماتا ہے۔ وہ آپ کے سامنے رکھا گیا پھر فرمایا کہ اے ابن عباس، کیا میں تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو نہ کروں؟ میں نے عرض کی کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، ضرور کیجیے۔ کہتے ہیں کہ آپ کے لیے (وضو کرنے والا) برتن رکھا گیا تو اُنہوں نے اپنے دونوں ہاتھ دھوئے، پھر کُلّی کی اور ناک میں پانی ڈال کر اُسے جھاڑا، پھر اپنے دائیں ہاتھ میں پانی لیکر اُس کے ساتھ اپنا چہرہ خوب ملا۔ اور باقی حدیث بیان کی۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الوضوء وسننه/حدیث: 153]
تخریج الحدیث: اسناده حسن
الرواة الحديث:
عبد الله بن العباس القرشي ← علي بن أبي طالب الهاشمي