صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1001. (50) باب ذكر الدليل على ضد قول من زعم أن المأموم يقوم خلف الإمام ينتظر مجيء غيره
ان لوگوں کے قول کے برخلاف دلیل کا بیان جو کہتے ہیں کہ اکیلا مقتدی امام کے پیچھے کھڑا ہوکر دوسرے مقتدی کا انتظار کرے گا
حدیث نمبر: 1534Q
فَإِنْ فَرَغَ الْإِمَامُ مِنَ الْقِرَاءَةِ، وَأَرَادَ الرُّكُوعَ قَبْلَ مَجِيءِ غَيْرِهِ تَقَدَّمَ فَقَامَ عَنْ يَمِينِ الْإِمَامِ.
پھر اگر امام قراءت سے فارغ ہوگیا اور اس نے دوسرے مقتدی کے آنے سے پہلے رکوع کا ارادہ کرلیا تو مقتدی آگے بڑھ کرامام کی دائیں جانب کھڑا ہو جائے [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قيام المأمومين خلف الإمام وما فيه من السنن/حدیث: 1534Q]
حدیث نمبر: 1534
نا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ بُنْدَارٌ ، نا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، نا شُعْبَةُ ، عَنْ سَلَمَةَ وَهُوَ ابْنُ كُهَيْلٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" بِتُّ فِي بَيْتِ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، فَتَتَبَّعْتُ كَيْفَ يُصَلِّي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي، فَجِئْتُ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ، وَقَالَ: فَأَخَذَنِي فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ"
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر ایک رات بسر کی۔ میں نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز (تہجّد) کیسے ادا فرماتے ہیں-(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ دیر آرام کیا) پھر آپ نے کھڑے ہوکر نماز شروع کر دی - لہٰذا میں بھی آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا۔ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پکڑ کر اپنی داٗئیں جانب کھڑا کر لیا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قيام المأمومين خلف الإمام وما فيه من السنن/حدیث: 1534]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 117، 138، 183، 697، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 256،، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 127، 448، 449، 884، 1093، 1094، 1103، 1119، 1121، 1524، 1533، 1534، 1675، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1445، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6335، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 441، وأبو داود فى (سننه) برقم: 58، 610، والترمذي فى (جامعه) برقم: 232، 3419، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 423، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 315، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1868»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1534 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1534
فوائد:
➊ دو آدمیوں کی جماعت مشروع ہے، خواہ وہ کم عمر بچہ ہی ہو اور دو آدمیوں کی جماعت کی صورت میں مقتدی امام کے ساتھ دائیں جانب کھڑا ہو گا۔
➋ نماز تہجد باجماعت ادا کرنا جائز ہے۔
➌ ایسے امام کی اقتداء جائز ہے جس نے امامت کروانے کی نیت نہ کی ہو۔
➊ دو آدمیوں کی جماعت مشروع ہے، خواہ وہ کم عمر بچہ ہی ہو اور دو آدمیوں کی جماعت کی صورت میں مقتدی امام کے ساتھ دائیں جانب کھڑا ہو گا۔
➋ نماز تہجد باجماعت ادا کرنا جائز ہے۔
➌ ایسے امام کی اقتداء جائز ہے جس نے امامت کروانے کی نیت نہ کی ہو۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1534]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1534 in Urdu
كريب بن أبي مسلم القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي