صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1025. (74) باب فضل تليين المناكب فى القيام فى الصفوف
صفوں میں کھڑے ہوتے وقت کندھوں کو نرم رکھنے کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 1566
نا بُنْدَارٌ ، نا أَبُو عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ يَحْيَى ، ثنا عَمِّي عُمَارَةُ بْنُ ثَوْبَانَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَيْرُكُمْ أَلْيَنُكُمْ مَنَاكِبَ فِي الصَّلاةِ"
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو نماز میں کندھوں کو نرم رکھتا ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قيام المأمومين خلف الإمام وما فيه من السنن/حدیث: 1566]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1566، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1756، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 179، وأبو داود فى (سننه) برقم: 672، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5269، والبزار فى (مسنده) برقم: 5196»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1566 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1566
فوائد:
➊ صف بندی میں نرمی اختیار کرنا اور اپنے کندھوں وغیرہ کو دوسرے نمازیوں کے لیے نرم کرنا کہ اگر وہ صف بندی کے لیے دائیں بائیں ہونے کا اشارہ کریں تو مطیع ہوجانا اور صف بندی سے تناؤ آنے کی صورت میں کچھ سمٹ کر کشادگی پیدا کرنا مستحب فعل ہے اور ان اوصاف کے حامل لوگ اخلاق و عادات میں بہترین ہیں۔
➊ صف بندی میں نرمی اختیار کرنا اور اپنے کندھوں وغیرہ کو دوسرے نمازیوں کے لیے نرم کرنا کہ اگر وہ صف بندی کے لیے دائیں بائیں ہونے کا اشارہ کریں تو مطیع ہوجانا اور صف بندی سے تناؤ آنے کی صورت میں کچھ سمٹ کر کشادگی پیدا کرنا مستحب فعل ہے اور ان اوصاف کے حامل لوگ اخلاق و عادات میں بہترین ہیں۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1566]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1566 in Urdu
عطاء بن أبي رباح القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي