صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1035. (84) باب ذكر البيان أن المأموم إنما يكبر بعد فراغ الإمام من التكبير
اس بات کا بیان کہ مقتدی تکبیر اُس وقت کہے گا جب امام تکبیر کہہ کر فارغ ہوجائے گا
حدیث نمبر: Q1577
لَا يَكُونُ مُكَبِّرًا حَتَّى يَفْرُغَ مِنَ التَّكْبِيرِ، وَيُتِمَّ الرَّاءَ الَّتِي هِيَ آخِرُ التَّكْبِيرِ، وَالْفَرْقُ بَيْنَ قَوْلِهِ: إِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَبَيْنَ قَوْلِهِ: وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا، إِذِ اسْمُ الْمُكَبِّرِ لَا يَقَعُ عَلَى الْإِمَامِ مَا لَمْ يُتِمَّ التَّكْبِيرَ، وَاسْمُ الرَّاكِعِ قَدْ يَقَعُ عَلَيْهِ إِذَا اسْتَوَى رَاكِعًا، وَكَذَلِكَ اسْمُ السَّاجِدِ يَقَعُ عَلَيْهِ إِذَا اسْتَوَى جَالِسًا
حدیث نمبر: 1577
نا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَإِذَا قَالَ الإِمَامُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، فَقُولُوا: اللَّهُ أَكْبَرُ، فَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ"
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب امام «اللهُ أَكْبَرُ» کہہ لے، تو تم «اللهُ أَكْبَرُ» کہو۔ جب وہ «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہے تو تم «رَبَّنَا وَلَكَ الحَمْد» کہو۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قيام المأمومين خلف الإمام وما فيه من السنن/حدیث: 1577]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 177، 357، 1562، 1577، 1693، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 402، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 694، 784، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2300، 2301، 3249، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 1102»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيد | صحابي | |
👤←👥سعيد بن المسيب القرشي، أبو محمد سعيد بن المسيب القرشي ← أبو سعيد الخدري | أحد العلماء الأثبات الفقهاء الكبار | |
👤←👥عبد الله بن أبي بكر الأنصاري، أبو محمد، أبو بكر عبد الله بن أبي بكر الأنصاري ← سعيد بن المسيب القرشي | ثقة ثبت | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← عبد الله بن أبي بكر الأنصاري | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥الضحاك بن مخلد النبيل، أبو عاصم الضحاك بن مخلد النبيل ← سفيان الثوري | ثقة ثبت | |
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى محمد بن المثنى العنزي ← الضحاك بن مخلد النبيل | ثقة ثبت |
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1577 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1577
فوائد:
نماز میں تکبیر کہنے، قیام، قعود اور رکوع و سجود میں امام کی اتباع واجب ہے اور مقتدی تمام امور امام کے بعد انجام دے۔
چنانچہ تکبیر تحریمہ اس وقت کہے جب امام تکبیر کہنے سے فارغ ہو چکا ہو، لیکن اگر اس نے امام کے فارغ ہونے سے پہلے تکبیر کہی تو اس کی نماز کا آغاز ہی نہیں ہو گا۔
مقتدی امام کے رکوع میں داخل ہونے کے بعد رکوع میں داخل ہو، پھر اگر وہ امام کے ساتھ یا پہلے رکوع میں چلا جائے تو وہ گناہ گار ہو گا لیکن اس کی نماز باطل نہیں ہو گی، یہی معاملہ سجدے کا ہے اور مقتدی امام کے سلام پھیرنے کے بعد سلام پھیرے، لیکن اگر اس نے امام سے قبل سلام پھیرا تو اس کی نماز باطل ہو گئی اور اگر وہ امام کے ساتھ سلام پھیرے، اس سے پہلے یا بعد میں نہیں، تو وہ گناہ گار ہو گا، اس کی نماز فاسد نہیں ہو گی۔
◈ [شرح النووي: 149/2]
نماز میں تکبیر کہنے، قیام، قعود اور رکوع و سجود میں امام کی اتباع واجب ہے اور مقتدی تمام امور امام کے بعد انجام دے۔
چنانچہ تکبیر تحریمہ اس وقت کہے جب امام تکبیر کہنے سے فارغ ہو چکا ہو، لیکن اگر اس نے امام کے فارغ ہونے سے پہلے تکبیر کہی تو اس کی نماز کا آغاز ہی نہیں ہو گا۔
مقتدی امام کے رکوع میں داخل ہونے کے بعد رکوع میں داخل ہو، پھر اگر وہ امام کے ساتھ یا پہلے رکوع میں چلا جائے تو وہ گناہ گار ہو گا لیکن اس کی نماز باطل نہیں ہو گی، یہی معاملہ سجدے کا ہے اور مقتدی امام کے سلام پھیرنے کے بعد سلام پھیرے، لیکن اگر اس نے امام سے قبل سلام پھیرا تو اس کی نماز باطل ہو گئی اور اگر وہ امام کے ساتھ سلام پھیرے، اس سے پہلے یا بعد میں نہیں، تو وہ گناہ گار ہو گا، اس کی نماز فاسد نہیں ہو گی۔
◈ [شرح النووي: 149/2]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1577]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1577 in Urdu
سعيد بن المسيب القرشي ← أبو سعيد الخدري