🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
125. ‏(‏ 124‏)‏ باب ذكر الدليل على أن الكعبين اللذين أمر المتوضئ بغسل الرجلين إليهما العظمان الناتئان فى جانبي القدم لا العظم الصغير الناتئ على ظهر القدم، على ما يتوهمه من يتحذلق ممن لا يفهم العلم، ولا لغة العرب‏.‏
اس بات کی دلیل کا بیان کہ وہ دونوں ٹخنے جہاں تک وضو کرنے والے کو پاؤں دھونے کا حکم دیا گیا ہے وہ قدم کے دونوں جانب ابھری ہوئی دوہڈیاں ہیں۔ قدم کے اوپر ابھری ہوئی چھوٹی ہڈی مراد نہیں ہے جیسا کہ بعض کم فہم اور عرب لغت نہ جاننے والے شیخی خوروں کو وہم ہوا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 160
نا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، نا وَكِيعٌ ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ الْجَدَلِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ . ح وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي غَنِيَّةَ ، عَنْ زَكَرِيَّا ، عَنْ أَبِي الْقَاسِمِ الْجَدَلِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ ، يَقُولُ: أَقْبَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَجْهِهِ، فَقَالَ: " أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ، ثَلاثًا، وَاللَّهِ لَتُقِيمُنَّ صُفُوفَكُمْ أَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللَّهُ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ" ، قَالَ: فَرَأَيْتُ الرَّجُلَ يَكُونُ كَعْبُهُ بِكَعْبِ صَاحِبِهِ، وَرُكْبَتُهُ بِرُكْبَةِ صَاحِبِهِ، وَمَنْكِبُهُ بِمَنْكِبِ صَاحِبِهِ. هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ وَكِيعٍ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَبُو الْقَاسِمِ الْجَدَلِيُّ هَذَا هُوَ حُسَيْنُ بْنُ الْحَارِثِ مِنْ جَدِيلَةَ قَيْسٍ، رَوَى عَنْهُ زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، وَأَبُو مَالِكٍ الأَشْجَعِيُّ، وَحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، وَعَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عِدَادُهُ فِي الْكُوفِيِّينَ، وَفِي هَذَا الْخَبَرِ مَا نَفَى الشَّكَّ وَالارْتِيَابَ أَنَّ الْكَعْبَ هُوَ الْعَظْمُ النَّاتِئُ الَّذِي فِي جَانِبِ الْقَدَمِ، الَّذِي يُمْكِنُ الْقَائِمُ فِي الصَّلاةِ أَنْ يَلْزَقَهُ بِكَعْبِ مَنْ هُوَ قَائِمٌ إِلَى جَنْبِهِ فِي الصَّلاةِ، وَالْعِلْمُ مُحِيطٌ عِنْدَ مَنْ رُكِّبَ فِيهِ الْعَقْلُ أَنَّ الْمُصَلِّينَ إِذَا قَامُوا فِي الصَّفِّ، لَمْ يُمْكِنْ أَحَدٌ مِنْهُمُ إِلْصَاقَ ظَهْرِ قَدَمِهِ بِظَهْرِ قَدِمَ غَيْرِهِ، وَهَذَا غَيْرُ مُمْكِنٍ، وَمَا كَوْنُهُ غَيْرَ مُمْكِنٍ لَمْ يَتَوَهَّمْ عَاقِلٌ كَوْنَهُ
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ، بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف اپنے چہرہ انور کے ساتھ متوجہ ہوئے اور فرمایا: اپنی صفیں سیدھی کرلو، تین بار فرمایا: اللہ کی قسم، تم ضرور اپنی صفوں کو سیدھا کرلو وگرنہ اللہ تعالی تمہارے دلوں میں مخالفت ڈال دے گا۔ (سیدنا نعمان) فرماتے ہیں کہ (آپ کےارشاد کی تعمیل میں) میں نےدیکھا کہ ایک شخص کا ٹخنہ اپنے ساتھی کے ٹخنے کے ساتھ، اس کا گھٹنا اس کے ساتھی کے گھٹنے کے ساتھ اور اس کا کندھا اس کے ساتھی کے کندھے کے ساتھ ملا ہوتا تھا۔ یہ وکیع کی حدیث کے الفاظ ہیں۔ امام ابو بکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ ابو قاسم قبیلہ قیس کے حسین بن حجاج بن ارطاۃ اور عطاء بن سائب نے روایت کی ہے۔ ابو القاسم کا شمار کوفی راویوں میں ہوتا ہے۔ اس حدیث میں ایسی دلیل ہے جس نے شک و شبہ کوختم کردیاہے کہ ٹخنہ پاؤں کی ایک جانب ابھری ہوئی وہ ہڈی ہے جسے نماز پڑھنےوالا اپنے پہلو میں کھڑے نمازی کے ٹخنے کے ساتھ ملا سکتا ہے۔ عقل مند لوگوں کے نزدیک یہ بات مسلم ہے کہ نمازی جب صف میں کھٹرے ہوتے ہیں تو ان میں سے کسی کے لیے یہ ممکن نہیں ہوتا کہ وہ اپنے قدم کے بالائی حصّے کو کسی دوسرے شخص کے قدم کے بالائی حصّے سے ملا لے، یہ نا ممکن ہے۔ لہذا جو چیز ناممکن ہوعقل مند اس کے ممکن ہونے کا خیال نہیں کرتا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الوضوء وسننه/حدیث: 160]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 717، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 436، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 160، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2165، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 809، وأبو داود فى (سننه) برقم: 662، 663، والترمذي فى (جامعه) برقم: 227، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 994، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 357، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1093، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18667»


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥النعمان بن بشير الأنصاري، أبو عبد اللهصحابي صغير
👤←👥الحسين بن الحارث الجدلي، أبو القاسم
Newالحسين بن الحارث الجدلي ← النعمان بن بشير الأنصاري
صدوق حسن الحديث
👤←👥زكريا بن أبي زائدة الوادعي، أبو يحيى
Newزكريا بن أبي زائدة الوادعي ← الحسين بن الحارث الجدلي
ثقة
👤←👥عبد الملك بن حميد الخزاعي
Newعبد الملك بن حميد الخزاعي ← زكريا بن أبي زائدة الوادعي
ثقة
👤←👥هارون بن إسحاق الهمداني، أبو القاسم
Newهارون بن إسحاق الهمداني ← عبد الملك بن حميد الخزاعي
ثقة
👤←👥النعمان بن بشير الأنصاري، أبو عبد الله
Newالنعمان بن بشير الأنصاري ← هارون بن إسحاق الهمداني
صحابي صغير
👤←👥الحسين بن الحارث الجدلي، أبو القاسم
Newالحسين بن الحارث الجدلي ← النعمان بن بشير الأنصاري
صدوق حسن الحديث
👤←👥زكريا بن أبي زائدة الوادعي، أبو يحيى
Newزكريا بن أبي زائدة الوادعي ← الحسين بن الحارث الجدلي
ثقة
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← زكريا بن أبي زائدة الوادعي
ثقة حافظ إمام
👤←👥سلم بن جنادة السوائي، أبو السائب
Newسلم بن جنادة السوائي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
ثقة
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 160 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 160
فوائد:
یہ حدیث بھی اس سابقہ موقف کی قوی دلیل ہے کہ کعب سے مراد ٹخنے کی ابھری ہڈیاں ہیں، پاؤں کی چھاتی اور پشت مراد نہیں ہے۔
کیونکہ صف ملاتے وقت کعب (ٹخنے کی ابھری ہڈیاں) سے پاؤں کی چھاتی ملانا ناممکن اور محال ہوتا ہے اور اس کیفیت سے صفیں ٹوٹیں گی۔
اس طرح صفوں کا ملنا ناممکن ہو جاتا ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 160]

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 160 in Urdu