صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1064. (113) باب تقدير الإمام الصلاة بضعفاء المأمومين، وكبارهم، وذوي الحوائج منهم.
امام کا کمزور، عمر رسیدہ اور ضرورت مند مقتدیوں کا خیال رکھتے ہوئے نماز پڑھانے کا بیان
حدیث نمبر: 1608
نا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، نا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ . ح وَحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، قَالَ: أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ ، فَقَالَ: كَانَ آخِرُ مَا عَهِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ بَعَثَنِي عَلَى الطَّائِفِ، فَقَالَ:" يَا عُثْمَانُ تَجَوَّزْ فِي الصَّلاةِ، وَاقْدُرِ النَّاسَ بِأَضْعَفِهِمْ ؛ فَإِنَّ فِيهِمُ الْكَبِيرَ وَالضَّعِيفَ وَالسَّقِيمَ، وَذَا الْحَاجَةِ"
جناب مطرف بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، تو اُنہوں نے فرمایا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے طائف کا امیر بناکر بھیجتے وقت آخری وصیت یہ کی تھی کہ اے عثمان، نماز مختصر اور ہلکی پڑھانا اور (امامت کراتے وقت) کمزور لوگوں کا خیال رکھنا کیونکہ نمازیوں میں عمر رسیدہ، کمزور، بیمار اور حاجت مند افراد بھی ہوتے ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قيام المأمومين خلف الإمام وما فيه من السنن/حدیث: 1608]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 468، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 423، 1608، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 727، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 671، وأبو داود فى (سننه) برقم: 531، والترمذي فى (جامعه) برقم: 209، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 714، 987، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2050، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16528»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1608 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1608
فوائد:
➊ ان احادیث کا مفہوم واضح ہے کہ ان میں امام کو نماز میں اس قدر تخفیف کا حکم ہے کہ تخفیف سے نماز کے ارکان و سنن میں خلل واقع نہ ہو۔ البتہ اکیلا شخص ارکان میں اتنی طوالت کر سکتا ہے جتنی طوالت مناسب ہو۔ مثلاً قیام، رکوع، سجود، تشہد اور دو سجدوں کے درمیانی جلسہ میں طوالت کی جا سکتی ہے۔ [شرح النووي: 216/2]
➋ فرض نمازوں میں اتنی طوالت کہ مقتدیوں پر گراں گزرے اور ان کی مشقت کا باعث ہو مکروہ ہے بلکہ نمازِ باجماعت ہلکے پھلکے انداز میں مشروع ہے۔
➊ ان احادیث کا مفہوم واضح ہے کہ ان میں امام کو نماز میں اس قدر تخفیف کا حکم ہے کہ تخفیف سے نماز کے ارکان و سنن میں خلل واقع نہ ہو۔ البتہ اکیلا شخص ارکان میں اتنی طوالت کر سکتا ہے جتنی طوالت مناسب ہو۔ مثلاً قیام، رکوع، سجود، تشہد اور دو سجدوں کے درمیانی جلسہ میں طوالت کی جا سکتی ہے۔ [شرح النووي: 216/2]
➋ فرض نمازوں میں اتنی طوالت کہ مقتدیوں پر گراں گزرے اور ان کی مشقت کا باعث ہو مکروہ ہے بلکہ نمازِ باجماعت ہلکے پھلکے انداز میں مشروع ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1608]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1608 in Urdu
مطرف بن عبد الله الحرشي ← عثمان بن أبي العاص الثقفي