🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1067. (116) بَابُ الرُّخْصَةِ فِي خُرُوجِ الْمَأْمُومِ مِنْ صَلَاةِ الْإِمَامِ لِلْحَاجَةِ تَبْدُو لَهُ مِنْ أُمُورِ الدُّنْيَا إِذَا طَوَّلَ الصَّلَاةَ.
جب امام طویل نماز پڑھائے تو مقتدی کو دنیاوی امور میں سے کوئی حاجت پیش آنے پر نماز سے نکل جانے کی رخصت ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1611
نا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: كَانَ مُعَاذٌ يُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى قَوْمِهِ، فَيَؤُمُّهُمْ، فَأَخَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ الْعِشَاءَ، ثُمَّ يَرْجِعُ مُعَاذٌ يَؤُمُّ قَوْمَهُ، فَافْتَتَحَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ، فَتَنَحَّى رَجُلٌ وَصَلَّى نَاحِيَةً، ثُمَّ خَرَجَ فَقَالُوا: مَا لَكَ يَا فُلانُ؟ نَافَقْتَ؟ قَالَ: مَا نَافَقْتُ، وَلآتِيَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلأُخْبِرَنَّهُ. قَالَ: فَذَهَبَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ مُعَاذًا يُصَلِّي مَعَكَ، ثُمَّ يَرْجِعُ فَيَؤمُّنَا، وَإِنَّكَ أَخَّرْتَ الْعِشَاءَ الْبَارِحَةَ، ثُمَّ جَاءَ يَؤُمُّنَا، فَافْتَتَحَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ، وَإِنَّمَا نَحْنُ أَصْحَابُ نَوَاضِحَ، وَإِنَّمَا نَعْمَلُ بِأَيْدِينَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَفَتَّانٌ أَنْتَ يَا مُعَاذُ؟ اقْرَأْ بِسُورَةِ كَذَا، وَسُورَةِ كَذَا"، فَقُلْنَا لِعَمْرٍو: إِنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ يَقُولُ: سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ، وَ السَّمَاءِ وَالطَّارِقِ؟ فَقَالَ: هُوَ نَحْوُ هَذَا
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کے ساتھ نماز پڑھتے تھے پھر اپنے قبیلے میں واپس جاکر اُنہیں جماعت کراتے تھے۔ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز میں تاخیر کردی، پھر سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے واپس جا کر اپنی قوم کو نماز پڑھائی تو سورة البقرة کی تلاوت شروع کر دی ـ تو ایک شخص جماعت سے الگ ہوگیا اور وہ ایک کونے میں ادا کر کے چلا گیا۔ لوگوں نے اس سے پوچھا کہ اے فلاں، تمہیں کیا ہوا ہے۔ کیا تم منافق ہوگئے ہو؟ اُس نے جواب دیا کہ میں منافق نہیں ہوا اور میں ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کو صورت حال سے آگاہ کروں گا۔ چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور عرض کی کہ اے اللہ کے رسول، بیشک سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں پھر واپس جاکر ہمیں امامت کراتے ہیں اور گزشتہ رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز تاخیر سے ادا کی۔ پھر وہ آئے تو ہمیں امامت کرائی اور سورة البقرة کی تلاوت شروع کر دی اور بیشک ہم اونٹوں کے ذریعے کھیتوں کو سیراب کرتے ہیں اور (دن بھر) اپنے ہاتھوں سے محنت کرتے ہیں (اس لئے رات تک بہت زیادہ تھک جاتے ہیں) پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے معاذ کیا تم فتنہ باز ہو؟ فلاں فلاں سورت پڑھا کرو۔“ ہم نے عمرو سے پوچھا، حضرت ابو زبیر فرماتے ہیں کہ «‏‏‏‏سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى» ‏‏‏‏ اور «‏‏‏‏وَالسَّمَاءِ وَالطَّارِقِ» ‏‏‏‏ پڑھاکرو۔ تو اُنہوں نے فرمایا کہ ہاں انہی جیسی سورتیں پڑھنے کا حُکم دیا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قيام المأمومين خلف الإمام وما فيه من السنن/حدیث: 1611]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 700، 701، 705، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 465، وابن الجارود فى "المنتقى"، 357، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 521، 1611، 1633، 1634، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1524، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 830، وأبو داود فى (سننه) برقم: 599، والترمذي فى (جامعه) برقم: 583، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1333، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 836، 986، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4108، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1075، 1076، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14410»


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عمرو بن دينار الجمحي، أبو محمد
Newعمرو بن دينار الجمحي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
ثقة ثبت
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← عمرو بن دينار الجمحي
ثقة حافظ حجة
👤←👥عبد الجبار بن العلاء العطار، أبو بكر
Newعبد الجبار بن العلاء العطار ← سفيان بن عيينة الهلالي
صدوق حسن الحديث
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1611 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1611
فوائد:
➊ نماز کو بے جا طول دینا اور مقتدیوں کی تکلیف کا باعث بنانا مکروہ فعل ہے۔
➋ اگر مقتدی امام کی طوالت سے آزردہ ہے تو وہ نماز چھوڑ کر علیحدہ نماز پڑھ سکتا ہے۔
➌ امام و حاکم سے مظلوم کی شکایت کرنا اور اپنی مظلومیت سنانا جائز و مباح ہے اور یہ ممنوع غیبت سے مستثنیٰ ہے۔
➍ امام و حاکم کا کسی شخص کی غلطی پر اسے ڈانٹنا اور سختی کرنا درست ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1611]

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1611 in Urdu