صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1084. (133) باب الأمر بالصلاة جماعة بعد أداء الفرض منفردا عند تأخير الإمام الصلاة،
جب امام نماز باجماعت کو مؤخر کردے تو اکیلے فرض نماز پڑھ لینے کے بعد دوبارہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کے حُکم کا بیان
حدیث نمبر: Q1637
وَالْبَيَانِ أَنَّ الْأُولَى تَكُونُ فَرْضًا مُنْفَرِدًا، وَالثَّانِيَةَ نَافِلَةً فِي جَمَاعَةٍ، ضِدَّ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ أَنَّ الصَّلَاةَ جَمَاعَةٌ هِيَ الْفَرِيضَةُ لَا الصَّلَاةُ مُنْفَرِدًا، وَالزَّجْرِ عَنْ تَرْكِ الصَّلَاةِ نَافِلَةً خَلْفَ الْإِمَامِ الْمُصَلِّي فَرِيضَةً، وَإِنْ أَخَّرَ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا
حدیث نمبر: 1637
نا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَيَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، قَالا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ . ح وَحَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى الْقَزَّازُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، قَالا: نا أَيُّوبُ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، نا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَاءِ ، قَالَ: أَخَّرَ ابْنُ زِيَادٍ الصَّلاةَ، فَأَتَانِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّامِتِ ، فَأَلْقَيْتُ لَهُ كُرْسِيًّا، فَجَلَسَ عَلَيْهِ، فَذَكَرْتُ لَهُ صُنْعَ ابْنِ زِيَادٍ، فَعَضَّ عَلَى شَفَتَيْهِ، ثُمَّ ضَرَبَ يَدَهُ عَلَى فَخِذِي، وَقَالَ: إِنِّي سَأَلْتُ أَبَا ذَرٍّ كَمَا سَأَلَتْنِي، فَضَرَبَ فَخِذِي كَمَا ضَرَبْتُ فَخِذَكَ، وَقَالَ: إِنِّي سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا سَأَلَتْنِي، فَضَرَبَ فَخِذِي، كَمَا ضَرَبْتُ فَخِذَكَ، وَقَالَ: " صَلِّ الصَّلاةَ لِوَقْتِهَا، فَإِنْ أَدْرَكَتْكَ مَعَهُمْ فَصَلِّ، وَلا تَقُلْ: إِنِّي قَدْ صَلَّيْتُ فَلا أُصَلِّي" . هَذَا حَدِيثُ بُنْدَارٍ، وَقَالَ يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ: فَعَضَّ عَلَى شَفَتَيْهِ
جناب ابوالعالیہ ابراء رحمه الله بیان کرتے ہیں کہ ابن زیاد نے نماز مؤخر کردی، تو میرے پاس حضرت عبداللہ بن صامت تشریف لائے - میں نے اُنہیں کرسی دی تو وہ اُس پر بیٹھ گئے۔ پھرمیں نے اُنہیں ابن زیاد کی کارستانی بیان کی۔ اُنہوں نے اپنے ہونٹ چبائے پھر اپنا ہاتھ میری ران پر مارااور فرمایا، میں نے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے اسی طرح سوال کیا تھا جس طرح تم نے مجھ سے کیا ہے، تو اُنہوں نے میری ران پر اسی طرح مارا تھا، جیسے میں نے تمہاری ران پر ہاتھ مارا ہے اور فرمایا تھا کہ بیشک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سوال کیا تھا، جس طرح تم نے مجھ سے سوال کیا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری ران پر ایسے ہی مارا تھا جیسے میں نے تمہاری ران پر مارا ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ” نماز کو اُس کے وقت پر ادا کرنا۔ پھر اگر ان حکمرانوں کے ساتھ تم نماز (با جما عت) پا لو تو پڑھ لو اور یہ نہ کہنا کہ بیشک میں تو نماز پڑھ چکا ہوں اس لئے اب میں نہیں پڑھتا۔“ یہ جناب بندار کی حدیث ہے اور جناب یحیٰی بن حکیم کی روایت میں ہے کہ اُنہوں نے اپنے دونوں ہونٹ چبائے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قيام المأمومين خلف الإمام وما فيه من السنن/حدیث: 1637]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 648، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1637، 1639، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1482، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 777، وأبو داود فى (سننه) برقم: 431، والترمذي فى (جامعه) برقم: 176، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1256، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3695، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21701»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1637 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1637
فوائد:
➊ اس حدیث میں اول وقت پر نماز پڑھنے کی ترغیب ہے اور اگر امام اول وقت سے نماز مؤخر کرے تو مقتدی کے لیے اول وقت پر تنہا نماز پڑھنا مستحب ہے۔
پھر وہ امام کے ساتھ نماز باجماعت ادا کرے۔ اس سے اول وقت اور جماعت دونوں فضیلتیں حاصل ہو جائیں گی۔
➋ انسان ایک نماز دو مرتبہ پڑھے تو اس کی پہلی نماز فرض اور دوسری نفل شمار ہوگی۔ [شرح النووي: 147/5]
➊ اس حدیث میں اول وقت پر نماز پڑھنے کی ترغیب ہے اور اگر امام اول وقت سے نماز مؤخر کرے تو مقتدی کے لیے اول وقت پر تنہا نماز پڑھنا مستحب ہے۔
پھر وہ امام کے ساتھ نماز باجماعت ادا کرے۔ اس سے اول وقت اور جماعت دونوں فضیلتیں حاصل ہو جائیں گی۔
➋ انسان ایک نماز دو مرتبہ پڑھے تو اس کی پہلی نماز فرض اور دوسری نفل شمار ہوگی۔ [شرح النووي: 147/5]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1637]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1637 in Urdu
عبد الله بن الصامت الغفاري ← أبو ذر الغفاري