صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1100. (149) باب إباحة ترك الجماعة فى السفر فى الليلة المظلمة،
دوران سفر اندھیری رات میں نماز باجماعت چھوڑنا جائز ہے۔ اگرچہ رات ٹھنڈی اور بارش والی نہ ہو۔ گزشتہ باب میں مذکور حدیث جیسی حدیث کے بیان کے ساتھ۔
حدیث نمبر: Q1656
وَإِنْ لَمْ تَكُنْ بَارِدَةً، وَلَا مَطِيرَةً بِمِثْلِ اللَّفْظِ الَّذِي ذَكَرْتُ فِي الْبَابِ قَبْلُ.
حدیث نمبر: 1656
نا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نا جَرِيرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" كُنَّا إِذَا كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَكَانَتْ لَيْلَةٌ ظَلْمَاءُ أَوْ لَيْلَةٌ مَطِيرَةٌ أَذَّنَ مُؤَذِّنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ نَادَى: مُنَادِيهِ: أَنْ صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ"
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں ہوتے اور رات اندھیری یا بارش والی ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مؤذن اذان دیتا یا منادی پکارتا ـ «أَن صَلُّوا فِيْ رِحَالِكُمْ» ”نماز اپنے اپنے ٹھکانوں اور۔ خیموں میں پڑھ لو۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب العذر الذى يجوز فيه ترك إتيان الجماعة/حدیث: 1656]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 632، 666، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 697، ومالك فى (الموطأ) برقم: 236، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1655، 1656، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2076، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 653، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1060، 1061، 1062، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 937، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1897، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4564، والحميدي فى (مسنده) برقم: 717»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1656 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1656
فوائد:
➊ دورانِ سفر رات کے وقت بارش ہونے اور سخت سردی کی صورت میں نمازِ باجماعت میں تخفیف مباح ہے اور نمازِ باجماعت ترک کرنے کی رخصت ہے۔
نیز یہ شرعی عذر میں سے ایک عذر ہے جس کی وجہ سے نمازِ باجماعت ترک کرنا جائز ہے۔
➋ رات کے وقت سخت اندھیرا یا بارش ہو تو نمازِ باجماعت ترک کرنا جائز ہے اور ان صورتوں میں مؤذن اذان میں «حي على الصلاة، حي على الفلاح» کی جگہ «صلوا في الرحال» کہے گا۔
➊ دورانِ سفر رات کے وقت بارش ہونے اور سخت سردی کی صورت میں نمازِ باجماعت میں تخفیف مباح ہے اور نمازِ باجماعت ترک کرنے کی رخصت ہے۔
نیز یہ شرعی عذر میں سے ایک عذر ہے جس کی وجہ سے نمازِ باجماعت ترک کرنا جائز ہے۔
➋ رات کے وقت سخت اندھیرا یا بارش ہو تو نمازِ باجماعت ترک کرنا جائز ہے اور ان صورتوں میں مؤذن اذان میں «حي على الصلاة، حي على الفلاح» کی جگہ «صلوا في الرحال» کہے گا۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1656]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1656 in Urdu
القاسم بن محمد التيمي ← عبد الله بن عمر العدوي