صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1106. (155) بَابُ تَوْقِيتِ النَّهْيِ عَنْ إِتْيَانِ الْجَمَاعَةِ لِآكِلِ الثُّومِ.
لہسن کھانے والے شخص کے لئے نماز باجماعت میں شرکت کی ممانعت کی تعیین و تحدید کا بیان
حدیث نمبر: 1663
نا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نا جَرِيرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ تَفَلَ تُجَاهَ الْقِبْلَةِ، جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَتَفْلَتُهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ، وَمَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الْبَقْلَةِ الْخَبِيثَةِ، فَلا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا"
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس شخص نے قبلہ رخ تُھوکا تو وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اُس کا تُھوک اُس کی دونوں آنکھوں کے درمیان لگا ہوگا اور جس شخص نے اس بدبُو دار سبزی میں سے کھایا ہو تو وہ تین دن تک ہماری مسجد کے قریب نہ آئے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب العذر الذى يجوز فيه ترك إتيان الجماعة/حدیث: 1663]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 925، 1314، 1663، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1639، 1643، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3824، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5135، والبزار فى (مسنده) برقم: 2905، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 7534، 24969»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1663 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1663
فوائد:
➊ مصنف نے اس حدیث میں لفظ «ثلاثاً» سے یہ استدلال کیا ہے کہ پیاز کھانے کے بعد تین دن تک مساجد میں داخلہ ممنوع ہے۔
➋ لیکن یہ استدلال درست نہیں، کیونکہ پیاز کھانے کے بعد تین دن تک پیاز کی بو باقی نہیں رہتی، لہٰذا اتنی لمبی پابندی بے سود ہے۔
➌ پھر ممکن اور قرینِ قیاس یہ ہے کہ «ثلاثاً» سے مراد یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کلمات تین بار دہرائے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ بات سمجھانے کی خاطر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے دہرایا کرتے تھے۔
➊ مصنف نے اس حدیث میں لفظ «ثلاثاً» سے یہ استدلال کیا ہے کہ پیاز کھانے کے بعد تین دن تک مساجد میں داخلہ ممنوع ہے۔
➋ لیکن یہ استدلال درست نہیں، کیونکہ پیاز کھانے کے بعد تین دن تک پیاز کی بو باقی نہیں رہتی، لہٰذا اتنی لمبی پابندی بے سود ہے۔
➌ پھر ممکن اور قرینِ قیاس یہ ہے کہ «ثلاثاً» سے مراد یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کلمات تین بار دہرائے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ بات سمجھانے کی خاطر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے دہرایا کرتے تھے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1663]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1663 in Urdu
زر بن حبيش الأسدي ← حذيفة بن اليمان العبسي