صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
137. ( 136) باب التغليظ فى غسل أعضاء الوضوء أكثر من ثلاث،
اعضائے وضو کو تین سے زیادہ مرتبہ دھونے پر وعید کا بیان
حدیث نمبر: Q174
وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ فَاعِلَهُ مُسِيءٌ ظَالِمٌ أَوْ مُتَعَدٍّ ظَالِمٌ.
اور اس کی دلیل کہ ایسا کرنے والا غلط کار ظالم یا حد سے گزرنے والا ظالم ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الوضوء وسننه/حدیث: Q174]
حدیث نمبر: 174
نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا الأَشْجَعِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ : أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ عَنِ الْوُضُوءِ، فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلاثًا ثَلاثًا، فَقَالَ:" مَنْ زَادَ فَقَدْ أَسَاءَ وَظَلَمَ ، أَوِ اعْتَدَى وَظَلَمَ"
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ایک اعرابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اُس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وضو کے متعلق دریافت کیا۔ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے تین تین بار وضو کیا، پھر فرمایا: ”جو (اس مقدار سے) زیادہ کرے تو اُس نے بُرا کیا اور ظلم کیا یا اُس نے زیادتی کی اور ظلم کیا-“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الوضوء وسننه/حدیث: 174]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن صحيح، أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 83، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 174، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 140، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 89، 90، وأبو داود فى (سننه) برقم: 135، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 422، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 373، 374، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6798، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 58»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 174 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 174
فوائد:
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ اعضائے وضو دھونے میں تین مرتبہ دھونے سے تجاوز طریقہ وضو پر ظلم و زیادتی ہے۔ (جو سراسر نا جائز ہے۔) [نيل الأوطار: 189/1]
➋ ◈ عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں: مجھے ڈر ہے کہ وضو میں اعضائے وضو دھونے میں تین کے عدد سے تجاوز کرنے والا، گناہ گار ہوگا۔
◈ ابراہیم نخعی کا قول ہے کہ وضو میں شدت (تین کے عدد سے تجاوز) شیطانی فعل ہے۔ اور اگر یہ فعل باعث فضیلت ہوتا تو صحابہ کرام اس عمل کو ضرور ترجیح دیتے۔ [المغني مع الشرح الكبير: 161/1]
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ اعضائے وضو دھونے میں تین مرتبہ دھونے سے تجاوز طریقہ وضو پر ظلم و زیادتی ہے۔ (جو سراسر نا جائز ہے۔) [نيل الأوطار: 189/1]
➋ ◈ عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں: مجھے ڈر ہے کہ وضو میں اعضائے وضو دھونے میں تین کے عدد سے تجاوز کرنے والا، گناہ گار ہوگا۔
◈ ابراہیم نخعی کا قول ہے کہ وضو میں شدت (تین کے عدد سے تجاوز) شیطانی فعل ہے۔ اور اگر یہ فعل باعث فضیلت ہوتا تو صحابہ کرام اس عمل کو ضرور ترجیح دیتے۔ [المغني مع الشرح الكبير: 161/1]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 174]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 174 in Urdu
شعيب بن محمد السهمي ← عبد الله بن عمرو السهمي