صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
خطبہ جمعہ کو مختصر کرنا اور اسے طویل نہ کرنا مستحب ہے
حدیث نمبر: 1782
نا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ هَيَّاجٍ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْهَمْدَانِيُّ ، نا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ الأَرْحَبِيُّ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْمَلَكِ بْنِ أَبْجَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ وَاصِلِ بْنِ حَيَّانَ ، قَالَ: قَالَ أَبُو وَائِلٍ : خَطَبَنَا عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ , فَأَبْلَغَ وَأَوْجَزَ , فَلَمَّا نَزَلَ، قُلْنَا لَهُ: يَا أَبَا الْيَقْظَانِ , لَقَدْ أَبَلَغْتَ وَأَوْجَزْتَ , فَلَوْ كُنْتُ نَفَّسْتَ. قَالَ: إِنَّنِي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ طُولَ صَلاةِ الرَّجُلِ , وَقِصَرَ خُطْبَتِهِ مَئِنَّةٌ مِنْ فِقْهِهِ , فَأَطِيلُوا الصَّلاةَ وَأَقْصِرُوا الْخُطْبَةَ , فَإِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا" . نا بِهِ رَجَاءُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعُذْرِيُّ أَبُو الْحَسَنِ , حَدَّثَنَا الْعَلاءُ بْنُ عُصَيْمٍ الْجُعْفِيُّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبْجَرَ بِهَذَا الإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ , وَلَمْ يَقُلْ:" فَلَوْ كُنْتَ نَفَّسْتَ"
جناب ابووائل بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے ہمیں بڑا بلیغ اور مختصر خطبہ ارشاد فرمایا ـ پھر جب وہ منبر سے اُترے تو ہم نے ان سے عرض کی کہ اے ابویقظان آپ نے بڑا بلیغ اور مختصر خطبہ ارشاد فرمایا ہے، اگر آپ اسے طویل کرتے تو بہت اچھا ہوتا۔ اُنہوں نے فرمایا کہ بیشک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”بلا شبہ آدمی کی لمبی نماز اور مختصر خطبہ کے فقیہ ہونے کی علامت ہے۔ لہٰذا تم نماز کو طویل اور خطبہ کو مختصر کیا کرو۔ کیونکہ بعض بیان جادو (کا اثر) رکھتے ہیں -“ جناب عبدالرحمان بن عبدالملک بن ابجر نے مذکورہ بالا کی طرح روایت بیان کی ہے مگر یہ الفاظ بیان نہیں کیے کہ اگر آپ طویل خطبہ دیتے تو اچھا تھا ـ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1782]
تخریج الحدیث: صحيح مسلم
الرواة الحديث:
العلاء بن عصيم الجعفي ← عبد الرحمن بن عبد الملك الهمداني