صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
سفر سے واپس آنے والا جب مسجد میں داخل ہو تو امام کے لئے خطبے کے دوران اسے سلام کرنے کی رخصت ہے
حدیث نمبر: 1798
حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ، نا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ وَهُوَ ابْنُ شِبْلٍ , عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: لَمَّا دَنَوْتُ مِنْ مَدِينَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَخْتُ رَاحِلَتِي , وَحَلَلْتُ عَيْبَتِي , فَلَبِسْتُ حُلَّتِي , فَدَخَلْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ , فَسَلَّمَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَرَمَانِي النَّاسُ بِالْحَدَقِ , فَقُلْتُ لِجَلِيسٍ لِي: يَا عَبْدَ اللَّهِ , هَلْ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَمْرِي شَيْئًا؟ قَالَ: نَعَمْ , ذَكَرَكَ بِأَحْسَنِ الذِّكْرِ , بَيْنَمَا هُوَ يَخْطُبُ إِذْ عَرَضَ لَهُ فِي خُطْبَتِهِ , قَالَ:" إِنَّهُ سَيَدْخُلُ عَلَيْكُمْ مِنْ هَذَا الْبَابِ أَوْ مِنْ هَذَا الْفَجِّ مِنْ خَيْرِ ذِي يَمَنٍ , وَإِنَّ عَلَى وَجْهِهِ لَمَسْحَةَ مَلَكٍ" . قَالَ: فَحَمِدْتُ اللَّهَ عَلَى مَا أَبْلانِي
سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ منوّرہ کے قریب پہنچ گیا تو میں نے اپنی اونٹنی کو بٹھایا اور اپنا تھیلا کھول کر اپنا جوڑا پہنا، پھر میں مسجد میں داخل ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سلام کیا۔ تو لوگوں نے مجھے گھورنا شروع کر دیا ـ تو میں نے اپنے پاس بیٹھے ہوئے شخص سے پوچھا، اے عبداللہ، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے بارے میں کچھ فرمایا تھا (جو یہ سب لوگ مجھے غور سے دیکھ رہے ہیں؟) اُس نے جواب دیا کہ ہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارا بڑا اچھا تذکرہ فرمایا ہے۔ اس دوران کہ آپ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، تو آپ کو اپنے خطبے میں کوئی بات یاد آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے پاس اس دروازے سے یا اس راستے سے یمن والوں کا بہتر ین شخص داخل ہوگا اور اُس کے چہرے پر بادشاہ کا نشان ہو گا۔ سیدنا جریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ تعالیٰ کے اس احسان پر اُس کا شکر ادا کیا۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1798]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1797، 1798، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 7199، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1057، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 8246، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5924، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19487»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1798 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1798
فوائد:
➊ دورانِ خطبہ لوگوں کو ایسی بات سے آگاہ کرنا، جس سے وہ بے خبر ہوں، جائز ہے۔
➋ ان احادیث میں جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان ہے کہ وہ بہترین یمنی اور مبارک شخص تھے۔
➌ کسی نعمت اور انعام کے ملنے کی صورت میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا مستحب فعل ہے۔
➊ دورانِ خطبہ لوگوں کو ایسی بات سے آگاہ کرنا، جس سے وہ بے خبر ہوں، جائز ہے۔
➋ ان احادیث میں جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان ہے کہ وہ بہترین یمنی اور مبارک شخص تھے۔
➌ کسی نعمت اور انعام کے ملنے کی صورت میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا مستحب فعل ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1798]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1798 in Urdu
المغيرة بن شبيل الأحمسي ← جرير بن عبد الله البجلي