صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمل غیر مفسر لفظ کے ساتھ اس دن کے روزے کی ممانعت کا بیان جس کے بارے میں شک ہو کہ یہ رمضان کا ہے یا شعبان کا
حدیث نمبر: 1914
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الأَشَجُّ مَا لا أُحْصِي غَيْرَ مَرَّةٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عَمَّارٍ، فَأُتِيَ بِشَاةٍ مَصْلِيَّةٍ، فَقَالَ: كُلُوا، فَتَنَحَّى بَعْضُ الْقَوْمِ، فَقَالَ: إِنِّي صَائِمٌ. فَقَالَ عَمَّارٌ : " مَنْ صَامَ الْيَوْمَ الَّذِي يُشَكُّ فِيهِ فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"
جناب صلہ بن زفر بیان کرتے ہیں کہ ہم سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے پاس تھے تو اُن کے پاس ایک بُھنی ہوئی بکری لائی گئی۔ تو اُنہوں نے فرمایا کہ کھاؤ۔ تو کچھ لوگ پیچھے ہٹ گئے۔ اُس نے کہا کہ میں روزے سے ہوں ـ تو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جس شخص نے شک والے دن کا روزہ رکھا تو اُس نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی ـ“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1914]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1914، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3585، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1547، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2187، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 2509، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2334، والترمذي فى (جامعه) برقم: 686، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1724، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1645، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8049، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2150»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1914 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1914
فوائد:
➊ شک کے دن سے مراد تیس شعبان کا دن ہے کہ جب بادل وغیرہ کی وجہ سے چاند نظر نہ آئے اور یہ اضطراب ہو کہ ممکن ہے یہ رمضان ہو یا شعبان۔ اس غیر یقینی صورت حال میں اس دن کا روزہ رکھنا حرام ہے۔ بلکہ گزشتہ احادیث کی رو سے اسے تیس شعبان ہی تسلیم کیا جائے گا۔ [تحفة الأحوذي: 3/ 247]
➋ ◈ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
اس حدیث سے استدلال کیا گیا ہے کہ شک کا روزہ حرام ہے، کیونکہ صحابی یہ بات اپنی رائے سے نہیں کہہ رہے ہیں۔ سو یہ حدیث مرفوع کے حکم میں ہے۔ [تحفة الأحوذي: 3/ 237]
➊ شک کے دن سے مراد تیس شعبان کا دن ہے کہ جب بادل وغیرہ کی وجہ سے چاند نظر نہ آئے اور یہ اضطراب ہو کہ ممکن ہے یہ رمضان ہو یا شعبان۔ اس غیر یقینی صورت حال میں اس دن کا روزہ رکھنا حرام ہے۔ بلکہ گزشتہ احادیث کی رو سے اسے تیس شعبان ہی تسلیم کیا جائے گا۔ [تحفة الأحوذي: 3/ 247]
➋ ◈ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
اس حدیث سے استدلال کیا گیا ہے کہ شک کا روزہ حرام ہے، کیونکہ صحابی یہ بات اپنی رائے سے نہیں کہہ رہے ہیں۔ سو یہ حدیث مرفوع کے حکم میں ہے۔ [تحفة الأحوذي: 3/ 237]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1914]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1914 in Urdu
صلة بن زفر العبسي ← عمار بن ياسر العنسي