صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
اس بات کا بیان کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ”حتّیٰ کہ صبح کی سفید دھاری تمہارے لئے سیاہ دھاری سے واضح ہو جائے“ سے اللہ تعالیٰ کی مراد رات کے بعد دن کی سفیدی کا ظاہر ہونا ہے۔
حدیث نمبر: 1926
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نا جَرِيرٌ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ؟ أَهُمَا الْخَيْطَانِ؟ قَالَ:" إِنَّكَ لَعَرِيضُ الْقَفَا، أَرَأَيْتَ أَبْصَرْتَ الْخَيْطَيْنِ قَطُّ"؟ ثُمَّ قَالَ:" لا بَلْ هُوَ سَوَادُ اللَّيْلِ وَبَيَاضُ النَّهَارِ"
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کر تے ہیں کہ میں نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول سیاہ دھاگے اور سفید دھاگے سے کیا مراد ہے؟ کیا یہ دو دھاگے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک تم چوڑی گُدی والے ہو۔“ مجھے بتاؤ کیا تم نے کبھی دو دھاگے دیکھے ہیں؟ پھر فرمایا: ”نہیں، بلکہ اس سے مراد رات کی سیاہی اور دن کی سفیدی ہے ـ“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1926]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1916، 4509، 4510، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1090، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1925، 1926، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3462، 3463، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2168، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2349، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2970، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 277، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8096، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19680»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1926 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1926
فوائد:
➊ اس سے مراد رات اور سفید دھاگے سے مراد دن ہے۔ یعنی روزہ دار کے لیے طلوع فجر سے پہلے کھانا جائز و مباح ہے، اور طلوع فجر کے ساتھ سحری کا وقت ختم ہو جاتا ہے۔
➋ ◈ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: اگر کسی شخص کو یہ گمان ہو کہ فجر طلوع نہیں ہوئی تو (اس غیر یقینی صورتحال میں کھانے پینے سے) اس کا روزہ فاسد نہیں ہوگا، کیونکہ مذکورہ آیت دلیل ہے کہ جب تک فجر واضح نہ ہو کھانا پینا مباح ہے۔ [عون المعبود: 5/227]
➌ اس آیت میں منکرین حدیث کے موقف کی تردید ہے۔ جو کہتے ہیں کہ حدیث ظنی اور نا قابلِ اعتبار ہے اور قرآن فہمی کے لیے عربی لغت سے استفادہ کافی ہے۔ جب مذکورہ صحابی رضی اللہ عنہ جو عربی دان تھے، وہ اس آیت کا مفہوم نہ سمجھ سکے تو عام عجمی لوگ صرف لغت سے ہر آیت کے مفہوم کا تعین کیسے کرسکتے ہیں؟ لہٰذا قرآن کا اصل بیان احادیث ہیں، جن کے بغیر قرآن فہمی ناممکن ہے اور عقل آیاتِ قرآنی کے مفہوم کی تعیین میں ناقص ہے۔
➊ اس سے مراد رات اور سفید دھاگے سے مراد دن ہے۔ یعنی روزہ دار کے لیے طلوع فجر سے پہلے کھانا جائز و مباح ہے، اور طلوع فجر کے ساتھ سحری کا وقت ختم ہو جاتا ہے۔
➋ ◈ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: اگر کسی شخص کو یہ گمان ہو کہ فجر طلوع نہیں ہوئی تو (اس غیر یقینی صورتحال میں کھانے پینے سے) اس کا روزہ فاسد نہیں ہوگا، کیونکہ مذکورہ آیت دلیل ہے کہ جب تک فجر واضح نہ ہو کھانا پینا مباح ہے۔ [عون المعبود: 5/227]
➌ اس آیت میں منکرین حدیث کے موقف کی تردید ہے۔ جو کہتے ہیں کہ حدیث ظنی اور نا قابلِ اعتبار ہے اور قرآن فہمی کے لیے عربی لغت سے استفادہ کافی ہے۔ جب مذکورہ صحابی رضی اللہ عنہ جو عربی دان تھے، وہ اس آیت کا مفہوم نہ سمجھ سکے تو عام عجمی لوگ صرف لغت سے ہر آیت کے مفہوم کا تعین کیسے کرسکتے ہیں؟ لہٰذا قرآن کا اصل بیان احادیث ہیں، جن کے بغیر قرآن فہمی ناممکن ہے اور عقل آیاتِ قرآنی کے مفہوم کی تعیین میں ناقص ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1926]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1926 in Urdu
عامر الشعبي ← عدي بن حاتم الطائي