صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
اس بات کی دلیل کا بیان کہ رمضان میں جماع کرنے والا شخص جب ساٹھ مساکین کو کھانا کھلانے کی ملکیت رکھتا ہو لیکن اُس کے پاس اپنی اور اپنے گھر والوں کو خوراک میسر نہ ہو تو اُس پر کفّارہ واجب نہیں ہے
امام بو بکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ سیدہ عا ئشہ رضی اللہ عنہا کی روایت میں یہ الفا ظ آئے ہیں کہ ”بیشک ہم خود بھوکے ہیں، ہمارے پاس کھانے کو کچھ نہیں ہے۔“ یہ بات عمر بن حارث کی روایت میں ہے اور عبدالرحمٰن بن حارث کی روایت میں ہے۔ ”ہمارے پاس رات کا کھانا بھی نہیں ہے۔“ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے۔ ”مدینہ منوّرہ کے دو پتھر یلے علاقوں کے درمیان ہم سے زیادہ محتاج اور تنگ دست کوئی نہیں ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1948]
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1948 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1948
فوائد:
➊ اگر حالتِ روزہ میں بیوی سے مباشرت کا مرتکب کفارہِ جماع کی کسی بھی شق سے عہدہ برآ ہونے سے معذور ہو اور خود اتنا محتاج ہو کہ صدقہ و خیرات کا مستحق ہو، تو امام و حاکم کفارہ پر لازم آنے والا صدقہ خود ادا کر دے۔ اور اگر وہ شخص صدقہ کا واقعی مستحق ہو تو وہ صدقہ اسی شخص کو دے دے، تو ایسا کرنا جائز و مسنون ہے۔
➊ اگر حالتِ روزہ میں بیوی سے مباشرت کا مرتکب کفارہِ جماع کی کسی بھی شق سے عہدہ برآ ہونے سے معذور ہو اور خود اتنا محتاج ہو کہ صدقہ و خیرات کا مستحق ہو، تو امام و حاکم کفارہ پر لازم آنے والا صدقہ خود ادا کر دے۔ اور اگر وہ شخص صدقہ کا واقعی مستحق ہو تو وہ صدقہ اسی شخص کو دے دے، تو ایسا کرنا جائز و مسنون ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1948]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1948 in Urdu