صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
153. (152) باب الرخصة فى المسح على الجوربين والنعلين.
جرابوں اور جوتوں پر مسح کرنے کی رخصت ہے
حدیث نمبر: 198
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالا: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، نا سُفْيَانُ ، نا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، نا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ . ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالا: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، نا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ الأَوْدِيِّ ، عَنْ هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ وَالنَّعْلَيْنِ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَيْسَ فِي خَبَرِ أَبِي عَاصِمٍ: وَالنَّعْلَيْنِ، إِنَّمَا قَالَ: مَسَحَ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ"، وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" بَالَ فَتَوَضَّأَ، وَمَسَحَ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ وَالنَّعْلَيْنِ"
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور جُرابوں اور جُوتوں پر مسح کیا۔ امام ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابوعاصم کی روایت میں «والنعلين» ”اور جُوتوں پر“ کے الفاظ نہیں ہیں۔ اُنہوں نے صرف یہ بیان کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جُرابوں پرمسح کیا۔ ابورافع کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کیا تو وضو کیا اور جُرابوں اور جُوتوں پر مسح کیا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب المسح على الخفين/حدیث: 198]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 198، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1338، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 129، وأبو داود فى (سننه) برقم: 159، والترمذي فى (جامعه) برقم: 99، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 559، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1370، 1371، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18493»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 198 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 198
فوائد:
یہ حدیث دلیل ہے کہ جرابوں پر مسح کرنا جائز ہے۔
اور اس مسح میں وہ جرابیں خاص نہیں جن کے تلوے چمڑے کے ہوں، بلکہ ان جرابوں پر بھی مسح کرنا جائز ہے کیونکہ لغوی اعتبار سے یہ بھی جرابیں ہی ہیں۔
اور جرابوں پر مسح کی صورت میں اگر جرابوں کے اوپر جوتے پہنے ہوں تو جوتوں پر مسح کر کے جوتوں سمیت نماز پڑھنا بھی جائز و مباح ہے۔
یہ حدیث دلیل ہے کہ جرابوں پر مسح کرنا جائز ہے۔
اور اس مسح میں وہ جرابیں خاص نہیں جن کے تلوے چمڑے کے ہوں، بلکہ ان جرابوں پر بھی مسح کرنا جائز ہے کیونکہ لغوی اعتبار سے یہ بھی جرابیں ہی ہیں۔
اور جرابوں پر مسح کی صورت میں اگر جرابوں کے اوپر جوتے پہنے ہوں تو جوتوں پر مسح کر کے جوتوں سمیت نماز پڑھنا بھی جائز و مباح ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 198]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 198 in Urdu
هزيل بن شرحبيل الأودي ← المغيرة بن شعبة الثقفي