🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان ”سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے“ کے سبب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2017
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلا قَدِ اجْتَمَعَ النَّاسُ عَلَيْهِ , وَقَدْ ظُلِّلَ عَلَيْهِ , فَقَالُوا: هَذَا رَجُلٌ صَائِمٌ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تَصُومُوا فِي السَّفَرِ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَهَذَا الْخَبَرُ دَالٌّ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا قَالَ هَذِهِ الْمَقَالَةَ إِذِ الصَّائِمُ الْمُسَافِرُ غَيْرُ قَابِلٍ يُسْرَ اللَّهِ حَتَّى اشْتَدَّ بِهِ الصَّوْمُ , وَاحْتِيجَ إِلَى أَنْ يُظَلَّ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جس کے گرد لوگ جمع تھے اور اُس پر سایہ کیا گیا تھا۔ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ اسے کیا ہوا ہے؟) تو اُنہوں نے عرض کی کہ یہ شخص روزے دار ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ نیکی نہیں ہے کہ تم (اس مشقّت کے ساتھ) سفر میں روزہ رکھو۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد اُس وقت فرمایا تھا جب روزہ رکھنے والے مسافر شخص نے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ آسانی اور رخصت کو قبول نہیں کیا تھا۔ حتّیٰ کہ اس پر روزہ نہایت مشکل ہوگیا اور وہ سائے کا محتاج ہو گیا۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2017]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1946، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1115، وابن الجارود فى "المنتقى"، 439، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2017، 2018، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 355، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2256، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2407، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1750، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8250، 8251، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14413»


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥محمد بن عمرو الهاشمي، أبو عبد الله
Newمحمد بن عمرو الهاشمي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
ثقة
👤←👥محمد بن عبد الرحمن الأنصاري
Newمحمد بن عبد الرحمن الأنصاري ← محمد بن عمرو الهاشمي
ثقة
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← محمد بن عبد الرحمن الأنصاري
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥محمد بن جعفر الهذلي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newمحمد بن جعفر الهذلي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى
Newمحمد بن المثنى العنزي ← محمد بن جعفر الهذلي
ثقة ثبت
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2017 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2017
فوائد:
➊ حالتِ سفر میں روزہ رکھنا اور ترک کرنا دونوں صورتیں جائز ہیں۔
➋ البتہ جن لوگوں کو سفر میں روزہ رکھنے سے سخت مشقت اٹھانا پڑے اور وہ بے حال ہو جائیں کہ دوسروں پر بوجھ بن جائیں، ایسے لوگوں کے لیے روزہ نہ رکھنا روزہ رکھنے سے افضل ہے۔
➌ اور ایسی ہی حالت سے دو چار لوگوں کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حالتِ سفر میں روزہ رکھنا ان کے لیے نیکی نہیں۔
➍ بلکہ ایسے لوگوں کو روزہ ترک کر دینا چاہیے اور اختتامِ رمضان کے بعد ان کی قضا دے لینی چاہیے، یہ ان کے حق میں بہتر ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2017]

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2017 in Urdu