صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
162. (161) باب ذكر الدليل على أن كراهية النبى صلى الله عليه وسلم لذكر الله على غير طهر كانت
اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا بغیر طہارت کے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے کو ناپسند کرنا
حدیث نمبر: Q207
إِذِ الذِّكْرُ عَلَى طَهَارَةٍ أَفْضَلُ، لَا أَنَّهُ غَيْرُ جَائِزٍ أَنْ يُذْكَرَ اللَّهُ عَلَى غَيْرِ طُهْرٍ، إِذِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَانَ يَذْكُرُ اللَّهَ عَلَى كُلِّ أَحْيَانِهِ.
اس لیے تھا کہ طہارت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا افضل ہے، اس لیے نہیں کہ بغیر طہارت کے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا جائز نہیں ہے۔ کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تو ہر وقت اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا کرتے تھے [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب فضول التطهير والاستحباب من غير إيجاب/حدیث: Q207]
حدیث نمبر: 207
نا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ الْهَمْدَانِيُّ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنِ الْبَهِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ اللَّهَ عَلَى كُلِّ أَحْيَانِهِ" . هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي كُرَيْبٍ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت اللہ تعالی کا ذکر کیا کرتے تھے۔ یہ ابو کریب کی حدیث کے الفاظ ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب فضول التطهير والاستحباب من غير إيجاب/حدیث: 207]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 373، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 207، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 801، وأبو داود فى (سننه) برقم: 18، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3384، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 302، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 428، وأحمد فى (مسنده) برقم: 25048»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 207 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 207
فوائد:
➊ یہ حدیث اصل دلیل ہے کہ طہارت اور عدم طہارت کی حالت میں تسبیح، تکبیر، تہلیل اور دیگر اذکار کا اہتمام بالاجماع جائز ہے۔
➋ البتہ علماء کا جنبی اور حائضہ کے لیے قراءتِ قرآن کے جواز میں اختلاف ہے اور جمہور علماء کا موقف ہے کہ جنبی اور حائضہ پر قرآن کی تلاوت کرنا حرام ہے اور مکمل آیت اور بعض حصے کی تلاوت میں کوئی فرق نہیں، ان پر قرآن کی مطلق تلاوت حرام ہے۔
➌ حتیٰ کہ اگر جنبی قرآن کی تلاوت کے ارادہ سے بسم اللہ اور الحمدللہ کہے تو یہ بھی حرام ہے، لیکن اگر اس سے مقصود محض ذکر کرنا ہو تو یہ عمل جائز ہے۔
➍ البتہ جنبی اور حائضہ کا قرآن کو دیکھنا اور دل سے قرآن کا پڑھنا جائز ہے اور غسل کے وقت بطورِ ذکر بسم اللہ پڑھنا مستحب عمل ہے۔
➎ پیشاب، پاخانہ اور جماع کی حالت میں ذکر کرنا مکروہ فعل ہے۔
◈ امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[شرح صحيح مسلم للنووي: 67/4]
➊ یہ حدیث اصل دلیل ہے کہ طہارت اور عدم طہارت کی حالت میں تسبیح، تکبیر، تہلیل اور دیگر اذکار کا اہتمام بالاجماع جائز ہے۔
➋ البتہ علماء کا جنبی اور حائضہ کے لیے قراءتِ قرآن کے جواز میں اختلاف ہے اور جمہور علماء کا موقف ہے کہ جنبی اور حائضہ پر قرآن کی تلاوت کرنا حرام ہے اور مکمل آیت اور بعض حصے کی تلاوت میں کوئی فرق نہیں، ان پر قرآن کی مطلق تلاوت حرام ہے۔
➌ حتیٰ کہ اگر جنبی قرآن کی تلاوت کے ارادہ سے بسم اللہ اور الحمدللہ کہے تو یہ بھی حرام ہے، لیکن اگر اس سے مقصود محض ذکر کرنا ہو تو یہ عمل جائز ہے۔
➍ البتہ جنبی اور حائضہ کا قرآن کو دیکھنا اور دل سے قرآن کا پڑھنا جائز ہے اور غسل کے وقت بطورِ ذکر بسم اللہ پڑھنا مستحب عمل ہے۔
➎ پیشاب، پاخانہ اور جماع کی حالت میں ذکر کرنا مکروہ فعل ہے۔
◈ امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[شرح صحيح مسلم للنووي: 67/4]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 207]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 207 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق