صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ منوّرہ تشریف لانے کے بعد عاشوراء کا روزہ رکھنے کا حُکم دینے کی علت کا بیان
حدیث نمبر: 2084
حَدَّثَنَا أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ , حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ , أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَجَدَ الْيَهُودَ يَصُومُونَ عَاشُورَاءَ , فَسُئِلُوا عَنْ ذَلِكَ , فَقَالُوا: هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي أَظْهَرَ اللَّهُ فِيهِ مُوسَى وَبَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى فِرْعَوْنَ , وَنَحْنُ نَصُومُهُ تَعْظِيمًا لَهُ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَحْنُ أَوْلَى بِمُوسَى مِنْكُمْ". وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ . حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ , حَدَّثَنَا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ , عَنْ أَبِي بِشْرٍ بِهَذَا نَحْوَهُ. قَالَ: فَصَامَهُ، وَأَمَرَ بِصَوْمِهِ. قَالَ لَنَا أَبُو بَكْرٍ: مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ كَانَ سَأَلَنِي عَنْ هَذَا
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منوّرہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو عاشوراء کا روزہ رکھتے ہوئے پایا۔ اُن سے اس بارے میں پوچھا گیا تو اُنہوں نے جواب دیا کہ اس دن اللہ تعالیٰ نے موسیٰ عليه السلام اور بنی اسرائیل کو فرعون پر غلبہ اور فتح دی تھی لہٰذا اس دن کی تعظیم کے لئے روزہ رکھتے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم تمہاری نسبت حضرت موسیٰ عليه السلام کے زیادہ قریبی اور حقدار ہیں۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن کا روزہ رکھنے کا حُکم دیا۔ جناب ابوبشر سے اسی طرح روایت مروی ہے۔ اس میں یہ ہے کہ ”آپ نے عاشوراء کا روزہ رکھا اور اس دن کا روزہ رکھنے کا حُکم بھی دیا۔“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ امام مسلم بن حجاج نے مجھ سے اس بارے میں سوال کیا تھا۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2084]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2004، 3397، 3943، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1130، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2084، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3625، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2444، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1734، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8486، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2688»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2084 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2084
فوائد:
➊ عاشوراء کو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام اور بنو اسرائیل کو فرعون کے مظالم سے نجات دلائی تھی، یہود بھی اس آزادی کی خوشی میں عاشوراء کا روزہ رکھتے تھے۔ ان کے اس عمل کی دیکھا دیکھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن کا خود بھی روزہ رکھا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی اس روزے کا حکم دیا۔ لہذا آزادی کی خوشی میں یا یوم نجات کے طور پر رقص و سرور کی محافل منعقد کرنا، نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کا ڈانس کرنا اور فحاشی و عریانی پھیلانا ممنوع فعل ہے، بلکہ آزادی کی خوشی منانے کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ اس دن روزہ رکھا جائے تاکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے احسان و انعام کا شکر ادا کیا جائے۔ اور منکرات وغیرہ کو ترک کر کے اللہ تعالیٰ کو راضی کیا جائے تاکہ وہ اس نعمت کو دوام بخشے۔
➋ عاشوراء کے روزے کی یہ فرضیت فرضیتِ رمضان تک باقی رہی، پھر اس فرضیت کو متروک قرار دیا گیا۔ لہذا اس دن کے روزے کی فرضیت ساقط ہو چکی ہے۔
➊ عاشوراء کو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام اور بنو اسرائیل کو فرعون کے مظالم سے نجات دلائی تھی، یہود بھی اس آزادی کی خوشی میں عاشوراء کا روزہ رکھتے تھے۔ ان کے اس عمل کی دیکھا دیکھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن کا خود بھی روزہ رکھا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی اس روزے کا حکم دیا۔ لہذا آزادی کی خوشی میں یا یوم نجات کے طور پر رقص و سرور کی محافل منعقد کرنا، نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کا ڈانس کرنا اور فحاشی و عریانی پھیلانا ممنوع فعل ہے، بلکہ آزادی کی خوشی منانے کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ اس دن روزہ رکھا جائے تاکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے احسان و انعام کا شکر ادا کیا جائے۔ اور منکرات وغیرہ کو ترک کر کے اللہ تعالیٰ کو راضی کیا جائے تاکہ وہ اس نعمت کو دوام بخشے۔
➋ عاشوراء کے روزے کی یہ فرضیت فرضیتِ رمضان تک باقی رہی، پھر اس فرضیت کو متروک قرار دیا گیا۔ لہذا اس دن کے روزے کی فرضیت ساقط ہو چکی ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2084]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2084 in Urdu
هشيم بن بشير السلمي ← جعفر بن أبي وحشية اليشكري