🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
اس بات کی دلیل کا بیان کہ داوَد عليه السلام سب لوگوں سے بڑھ کر عبادت گزار تھے۔ جبکہ ان کے روزوں کا معمول اس طرح تھا جیسا ہم نے بیان کیا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2110
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ: أَرْسَلَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَقُومُ اللَّيْلَ، وَتَصُومُ النَّهَارَ؟". فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، وَقَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صُمْ صَوْمَ دَاوُدَ ؛ فَإِنَّهُ كَانَ أَعْبَدَ النَّاسِ، كَانَ يَصُومُ يَوْمًا، وَيُفْطِرُ يَوْمًا"، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّكَ لا تَدْرِي، لَعَلَّهُ أَنْ يَطُولَ بِكَ الْعُمُرُ" . فَلَوَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ قَبِلْتُ الرُّخْصَةَ الَّتِي أَمَرَنِي بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مجھے بلانے کے لئے) پیغام بھیجا۔ (میں حاضر ہوا) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا مجھے یہ خبر نہیں دی گئی کہ تم ساری رات نفل پڑھتے ہو اور دن کو روزہ رکھتے ہو۔ پھر مکمّل حدیث بیان کی۔ وہ کہتے ہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حضرت داؤد عليه السلام کے روزے رکھا کرو کیونکہ وہ سب لوگوں سے بڑھ کر عبارت گزار بندے تھے۔ وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن روزہ چھوڑ دیتے تھے۔ پھر فرمایا: بیشک تمہیں معلوم نہیں ہے شاید کہ تمہیں طویل عمر نصیب ہو۔ وہ کہتے ہیں کہ اب میں خواہش کرتا ہوں کہ کاش میں نے وہ رخصت قبول کی ہوتی جس کا حُکم مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا تھا۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2110]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1131، 1153، 1974، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1159، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 197، 1145، 2105، 2106، 2109، 2110، 2121، 2152، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 11، 352، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6992، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1629، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1388، 1389، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1346، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4127، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6588»


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمرو السهمي، أبو محمد، أبو نصر، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة
Newأبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← عبد الله بن عمرو السهمي
ثقة إمام مكثر
👤←👥يحيى بن أبي كثير الطائي، أبو نصر
Newيحيى بن أبي كثير الطائي ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري
ثقة ثبت لكنه يدلس ويرسل
👤←👥عكرمة بن عمار العجلي، أبو عمار
Newعكرمة بن عمار العجلي ← يحيى بن أبي كثير الطائي
صدوق يغلط
👤←👥هشام بن عبد الملك الباهلي، أبو الوليد
Newهشام بن عبد الملك الباهلي ← عكرمة بن عمار العجلي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى
Newمحمد بن المثنى العنزي ← هشام بن عبد الملك الباهلي
ثقة ثبت
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2110 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2110
فوائد:
یہ حدیث دلیل ہے کہ داؤد علیہ السلام کا ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن روزہ چھوڑنا نفل روزوں کی افضل قسم ہے۔
اور روزوں اور قیام اللیل کے انتخاب میں داؤد علیہ السلام زیادہ عبادت گزار تھے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2110]

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2110 in Urdu