صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
169. (168) بَابُ اسْتِحْبَابِ الْوُضُوءِ عِنْدَ النَّوْمِ، وَإِنْ لَمْ يَكُنِ الْمَرْءُ جُنُبًا لِيَكُونَ مَبِيتُهُ عَلَى طَهَارَةٍ.
سوتے وقت وضو کرنا مستحب ہے اگرچہ آدمی جنبی نہ ہو تاکہ وہ طہارت (پاکیزگی) کی حالت میں رات گزارے
حدیث نمبر: 216
نا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا أَتَيْتَ مَضْجَعَكَ، فَتَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلاةِ، ثُمَّ اضْطَجِعْ عَلَى شِقِّكَ الأَيْمَنِ" ، ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ. وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذِهِ اللَّفْظَةُ:" إِذَا أَتَيْتَ مَضْجَعَكَ" مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي نَقُولُ إِنَّ الْعَرَبَ، تَقُولُ: إِذَا فَعَلْتَ كَذَا، تُرِيدُ إِذَا أَرَدْتَ فِعْلَ ذَلِكَ الشَّيْءِ، كَقَوْلِهِ جَلَّ وَعَلا: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلاةِ سورة المائدة آية 6، وَمَعْنَاهُ إِذَا أَرَدْتُمُ الْقِيَامَ إِلَى الصَّلاةِ
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم (سونے کے لیے) اپنے بستر پر آنے لگو تو نماز کے وضو جیسا وضو کرلو، پھر اپنی دائیں کروٹ پر لیٹو۔“ پھر بقیہ حدیث بیان کی۔ امام ابوبکر رحم اللہ فرماتے ہیں: حدیث کے یہ الفاظ «اِذَآ اَتَیْتَ مَضْجَعَکَ» اسی جنس سے ہے جسے ہم بیان کرتے ہیں کہ عرب لوگ کہتے ہیں «اذا فعلت كذا» ”جب تو اس طرح کرے“ انکی مراد یہ ہوتی ہے کہ جب تم اس کام کرنے کا ارادہ کرو۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ» [سورة المائدة ] ”اے مومنو، جب تم نماز کے لئے اٹھو“ اور اس کا یہ معنی ہے کہ ”جب تم نماز کے لیے اٹھنے کا ارادہ کرو۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب فضول التطهير والاستحباب من غير إيجاب/حدیث: 216]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 247، 6311، 6313، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2710، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 216، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5522، وأبو داود فى (سننه) برقم: 5046، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3394، 3399، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3876، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18764»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 216 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 216
فوائد:
اس حدیث میں تین سنتوں کا بیان ہے، جو واجب نہیں بلکہ مستحب ہیں۔
➊ نیند کے وقت وضو کا اہتمام، اگر اس وقت انسان باوضو ہو تو یہی وضو کافی ہے نیا وضو کرنے کی ضرورت نہیں۔
کیونکہ اس سے مقصود طہارت کی حالت میں سونا ہے کہ کہیں رات کو موت واقع نہ ہو۔
اور اگر موت واقع ہو تو طہارت کی حالت میں ہو۔
اور اس کا فائدہ یہ بھی ہے کہ اس کے خواب سچے ہوں گے اور نیند میں شیطان اس سے کھیلنے سے باز رہے گا اور اسے خوف زدہ نہیں کرے گا۔
➋ دائیں پہلو پر سونا مستحب فعل ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دائیں جانب کو پسند کرتے تھے اور دائیں کروٹ سونا جلد بیداری کا باعث ہے۔
➌ سوتے وقت اللہ تعالیٰ کا ذکر کریں تاکہ ذکرِ الٰہی کی تمام اعمال پر مہر ثبت ہو جائے۔ [شرح صحيح مسلم للنووي: 31/17]
اس حدیث میں تین سنتوں کا بیان ہے، جو واجب نہیں بلکہ مستحب ہیں۔
➊ نیند کے وقت وضو کا اہتمام، اگر اس وقت انسان باوضو ہو تو یہی وضو کافی ہے نیا وضو کرنے کی ضرورت نہیں۔
کیونکہ اس سے مقصود طہارت کی حالت میں سونا ہے کہ کہیں رات کو موت واقع نہ ہو۔
اور اگر موت واقع ہو تو طہارت کی حالت میں ہو۔
اور اس کا فائدہ یہ بھی ہے کہ اس کے خواب سچے ہوں گے اور نیند میں شیطان اس سے کھیلنے سے باز رہے گا اور اسے خوف زدہ نہیں کرے گا۔
➋ دائیں پہلو پر سونا مستحب فعل ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دائیں جانب کو پسند کرتے تھے اور دائیں کروٹ سونا جلد بیداری کا باعث ہے۔
➌ سوتے وقت اللہ تعالیٰ کا ذکر کریں تاکہ ذکرِ الٰہی کی تمام اعمال پر مہر ثبت ہو جائے۔ [شرح صحيح مسلم للنووي: 31/17]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 216]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 216 in Urdu
سعد بن عبيدة السلمي ← البراء بن عازب الأنصاري