🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پورے رمضان المبارک کی راتوں میں اس لئے قیام نہیں کی تھا کہ آپ ڈرگئے تھے کہ کہیں آپ کی اُمّت پر قیام اللیل فرض نہ کردیا جائے پھر وہ اس سے عاجز آجائیں گے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2207
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ فَصَلَّى فِي الْمَسْجِدِ، فَصَلَّى رِجَالٌ بِصَلاتِهِ، فَأَصْبَحَ نَاسٌ يَتَحَدَّثُونَ بِذَلِكَ، فَلَمَّا كَانَتِ اللَّيْلَةُ الثَّالِثَةُ كَثُرَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ، فَخَرَجَ فَصَلَّى فَصَلُّوا بِصَلاتِهِ، فَلَمَّا كَانَتِ اللَّيْلَةُ الرَّابِعَةُ عَجَزَ الْمَسْجِدُ عَنْ أَهْلِهِ، فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَطَفِقَ رِجَالٌ مِنْهُمْ يُنَادُونَ: الصَّلاةَ، فَلا يَخْرُجُ، فَكَمُنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى خَرَجَ لِصَلاةِ الْفَجْرِ، فَلَمَّا قَضَى الْفَجْرَ قَامَ فَأَقْبَلَ عَلَيْهِمْ بِوَجْهِهِ، فَتَشَهَّدَ، فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" أَمَّا بَعْدُ ؛ فَإِنَّهُ لَمْ يَخْفَ عَلَيَّ شَأْنُكُمْ، وَلَكِنِّي خَشِيتُ أَنْ تُفْتَرَضَ عَلَيْكُمْ صَلاةُ اللَّيْلِ، فَتَعْجِزُوا عَنْهَا". وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرَغِّبُهُمْ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَأْمُرَ بِعَزِيمَةِ أَمْرٍ، فَيَقُولُ:" مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ" . فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ الأَمْرُ كَذَلِكَ فِي خِلافَةِ أَبِي بَكْرٍ، وَصَدْرًا مِنْ خِلافَةِ عُمَرَ، حَتَّى جَمَعَهُمْ عُمَرُ عَلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، وَصَلَّى بِهِمْ، فَكَانَ ذَلِكَ أَوَّلَ مَا اجْتَمَعَ النَّاسُ عَلَى قِيَامِ رَمَضَانَ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آدھی رات کو گھر سے نکلے اور مسجد میں نفل نمازپڑھی تو کچھ صحابہ کرام نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کی تو صبح کے وقت لوگ آپس میں اس بارے میں بات چیت کرتے رہے۔ پھر جب تیسری رات ہوئی تو مسجد میں نمازیوں کی تعداد بڑھ گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے مسجد میں تشریف لائے اور نماز ادا کی تو لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ نماز ادا کی۔ پھرجب چوتھی رات ہوئی تو لوگ مسجد میں پورے نہ آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُن کے پاس تشریف نہ لائے۔ پس کچھ لوگوں نے نماز، نماز پکارنا شروع کر دیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف نہ لائے بلکہ اندر ہی تشریف فرما رہے۔ حتّیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر کے لئے باہر تشریف لائے۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر مکمّل کرلی تو آپ کھڑے ہوئے، صحابہ کی طرف اپنے چہرہ اقدس کے ساتھ متوجہ ہوئے، تشہد پڑھا، اللہ کی حمد وثنا بیان کی، پھر فریا: اما بعد، بیشک مجھ پر تمہاری آمد مخفی نہیں تھی لیکن مجھے ڈر ہوا کہ کہیں تم پر رات کی نفل نماز فرض نہ قرار دیدی جائے پھر تم اس کی ادائیگی سے عاجز آجاؤ گے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وجوبی حُکم دیئے بغیر انہیں رمضان المبارک میں نفل نماز پڑھنے کی ترغیب اور شوق دلاتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: جس شخص نے رمضان کے روزے ایمان اور ثواب کی نیت سے رکھے تو اُس کے سابقہ گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوگئے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ابتدائی سالوں میں رات کی نماز کا طریقہ کار یہی رہا۔ حتّیٰ کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی امامت پر جمع کردیا چنانچہ اُنہوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ اس طرح لوگ پہلی مرتبہ رمضان المبارک میں قیام اللیل کے لئے جمع ہوئے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2207]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 924، 1129، 2011، 2012، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 761، ومالك فى (الموطأ) برقم: 375، وابن الجارود فى "المنتقى"، 442، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1128، 2207، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 141، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1603، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1373، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4675، 4676، وأحمد فى (مسنده) برقم: 25999»
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← عروة بن الزبير الأسدي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥يونس بن يزيد الأيلي، أبو يزيد، أبو بكر
Newيونس بن يزيد الأيلي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة
👤←👥عثمان بن عمر العبدي، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عدي
Newعثمان بن عمر العبدي ← يونس بن يزيد الأيلي
ثقة
👤←👥يعقوب بن إبراهيم العبدي، أبو يوسف
Newيعقوب بن إبراهيم العبدي ← عثمان بن عمر العبدي
ثقة
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2207 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2207
فوائد:
➊ قیام اللیل کا باجماعت اہتمام، بالخصوص رمضان میں، مستحب فعل ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد مذکورہ خوف ختم ہو گیا۔ اسی لیے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز تراویح کے لیے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی اقتدا میں جمع کیا تھا۔
➋ اللہ کی قدر کو چھوڑ کر اللہ کی قدر (یعنی رخصت) کی طرف فرار جائز ہے۔
➌ مذہبی پیشوا لوگوں کے معمول کے مخالف عمل کرے تو اسے اس کا عذر، حکم یا حکمت سے آگاہ کرنا چاہیے۔
➍ اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیا سے بے رغبتی، کم تر سہولیات پر اکتفا اور امت کے لیے انتہائی شفقت کا بیان ہے۔
➎ نوافل کے باجماعت اہتمام کے لیے اذان و اقامت مشروع نہیں۔ [فتح الباري: 4/108]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2207]

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2207 in Urdu