صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
رمضان المبارک میں آخری عشرے میں اعتکاف کے وقت کا بیان
حدیث نمبر: 2217
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَعْتَكِفَ صَلَّى الصُّبْحَ، ثُمَّ دَخَلَ الْمَكَانَ الَّذِي يُرِيدُ أَنْ يَعْتَكِفَ فِيهِ. فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَعْتَكِفَ الْعَشْرَ الأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ فَضُرِبَ لَهُ خِبَاءٌ"، وَأَمَرَتْ عَائِشَةُ، فَضُرِبَ لَهَا خِبَاءٌ، وَأَمَرَتْ حَفْصَةُ، فَضُرِبَ لَهَا خِبَاءٌ، فَلَمَّا رَأَتْ زَيْنَبُ خِبَاءَهَا أَمَرَتْ بِخِبَاءٍ، فَضُرِبَ لَهَا، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَمْ يَعْتَكِفْ فِي رَمَضَانَ، فَاعْتَكَفَ فِي شَوَّالٍ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف کا ارادہ فرماتے تو صبح کی نماز ادا کرتے۔ پھر اس جگہ داخل ہو جاتے جس میں اعتکاف بیٹھنے کا آپ کا ارادہ ہوتا جب آپ کا ارادہ رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف کرنے کا ہوتا، تو آپ کے لئے خیمہ لگا دیا جاتا اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی حُکم دیا تو اُن کے لئے بھی خیمہ لگا دیا گیا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے حُکم دیا تو اُن کے لئے بھی خیمہ لگا دیا گیا۔ پھر جب سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے اُن کا خمیہ لگا دیکھا تو اُنہوں نے بھی خیمہ لگانے کا حُکم دے دیا، تو اُن کے لئے بھی خیمہ لگا دیا گیا پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ منظر دیکھا تو رمضان المبارک میں اعتکاف نہ کیا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شوال میں اعتکاف کیا۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2217]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2033، 2034، 2041، 2045، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1173، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1130، وابن الجارود فى "المنتقى"، 448، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2217، 2224، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3666، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 708، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2464، والترمذي فى (جامعه) برقم: 791، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1771، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8660، وأحمد فى (مسنده) برقم: 25183، والحميدي فى (مسنده) برقم: 196»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2217 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2217
فوائد:
◈ اس حدیث سے ان لوگوں نے دلیل اخذ کی ہے، جو کہتے ہیں کہ اعتکاف دن کے اول حصہ سے شروع کیا جائے گا۔ اوزاعی، ثوری اور لیث بن سعد رحمہ اللہ کا یہی موقف ہے۔
◈ لیکن مالک، ابوحنیفہ، شافعی اور احمد بن حنبل رحمہ اللہ علیہم کہتے ہیں کہ جو شخص مہینے یا عشرے کے اعتکاف کا ارادہ کرے، وہ مسجد میں غروب آفتاب سے قبل داخل ہوگا۔
حدیث الباب کا مفہوم انہوں نے یہ بیان کیا ہے کہ معتکف جائے اعتکاف میں نماز فجر کے بعد داخل ہو اور نماز فجر کے بعد ہی خلوت اختیار کرے۔
حدیث الباب کا یہ مطلب نہیں کہ وہ اعتکاف کا آغاز نماز فجر کے بعد کرے۔ بلکہ معتکف مغرب سے قبل مسجد میں اعتکاف کی حالت میں ٹھہرے اور نماز فجر پڑھنے کے بعد کنارہ کشی کرلے۔ [شرح النووي: 68/8، 69]
➊ مؤخر الذکر علماء کا قول راجح ہے کیونکہ اگر 21 رمضان کی صبح کو اعتکاف شروع کیا جائے تو اعتکاف گیارہ دن ہوتا ہے، جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دس دن کا اعتکاف کرتے تھے۔
➋ پھر اکیس رمضان کی صبح اعتکاف شروع کیا جائے تو اعتکاف، عشرے سے کم پڑتا ہے۔ کیونکہ عشرے کی ایک طاق رات کم واقع ہوتی ہے۔
لہٰذا اقرب الی الصواب یہی بات ہے کہ اکیس رمضان کی رات کو اعتکاف شروع کیا جائے اور شب بھر معتکف سے باہر عبادات میں مشغول رہنے کے بعد نماز فجر ادا کرنے کے بعد معتکف میں داخل ہو جائے۔
◈ اس حدیث سے ان لوگوں نے دلیل اخذ کی ہے، جو کہتے ہیں کہ اعتکاف دن کے اول حصہ سے شروع کیا جائے گا۔ اوزاعی، ثوری اور لیث بن سعد رحمہ اللہ کا یہی موقف ہے۔
◈ لیکن مالک، ابوحنیفہ، شافعی اور احمد بن حنبل رحمہ اللہ علیہم کہتے ہیں کہ جو شخص مہینے یا عشرے کے اعتکاف کا ارادہ کرے، وہ مسجد میں غروب آفتاب سے قبل داخل ہوگا۔
حدیث الباب کا مفہوم انہوں نے یہ بیان کیا ہے کہ معتکف جائے اعتکاف میں نماز فجر کے بعد داخل ہو اور نماز فجر کے بعد ہی خلوت اختیار کرے۔
حدیث الباب کا یہ مطلب نہیں کہ وہ اعتکاف کا آغاز نماز فجر کے بعد کرے۔ بلکہ معتکف مغرب سے قبل مسجد میں اعتکاف کی حالت میں ٹھہرے اور نماز فجر پڑھنے کے بعد کنارہ کشی کرلے۔ [شرح النووي: 68/8، 69]
➊ مؤخر الذکر علماء کا قول راجح ہے کیونکہ اگر 21 رمضان کی صبح کو اعتکاف شروع کیا جائے تو اعتکاف گیارہ دن ہوتا ہے، جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دس دن کا اعتکاف کرتے تھے۔
➋ پھر اکیس رمضان کی صبح اعتکاف شروع کیا جائے تو اعتکاف، عشرے سے کم پڑتا ہے۔ کیونکہ عشرے کی ایک طاق رات کم واقع ہوتی ہے۔
لہٰذا اقرب الی الصواب یہی بات ہے کہ اکیس رمضان کی رات کو اعتکاف شروع کیا جائے اور شب بھر معتکف سے باہر عبادات میں مشغول رہنے کے بعد نماز فجر ادا کرنے کے بعد معتکف میں داخل ہو جائے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2217]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2217 in Urdu
عمرة بنت عبد الرحمن الأنصارية ← عائشة بنت أبي بكر الصديق