صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1571. (16) باب ذكر الدليل على أن صغار الإبل والغنم وكبارهما تعد على مالكها عند أخذ الساعي الصدقة من مالكها
اس بات کی دلیل کا بیان کہ اوتٹوں اور بکریوں کی زکوٰۃ وصول کرتے وقت تحصیل دار تمام چھوٹے بڑے اونٹ اور بکریاں شمار کرے گا
حدیث نمبر: 2262
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَلَيْسَ فِي مَا دُونَ خَمْسٍ مِنَ الإِبِلِ شَيْءٌ، فَإِذَا كَانَتْ خَمْسَ عَشْرَةَ، فَفِيهَا ثَلاثَةُ شِيَاهٍ إِلَى عِشْرِينَ" ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، فَإِذَا كَثُرَتْ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَلَيْسَ فِي مَا دُونَ خَمْسٍ مِنَ الإِبِلِ شَيْءٌ، فَإِذَا كَانَتْ خَمْسًا، فَفِيهَا شَاةٌ إِلَى عَشْرٍ، فَإِذَا كَانَتْ عَشْرًا، فَفِيهَا شَاتَانِ إِلَى خَمْسَ عَشْرَةَ، فَإِذَا كَانَتْ خَمْسَ عَشْرَةَ، فَفِيهَا ثَلاثُ شِيَاهٍ إِلَى عِشْرِينَ"، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ،" فَإِذَا كَثُرَتِ الإِبِلُ، فَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ، وَلا تُؤْخَذُ هَرِمَةٌ، وَلا ذَاتُ عَوْرَاءَ إِلا أَنْ يَشَاءَ الْمُصَدِّقُ، وَيَعُدُّ صَغِيرَهَا وَكَبِيرَهَا، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ أَرْبَعِينَ مِنَ الْغَنَمِ شَيْءٌ، فَإِذَا كَانَتْ أَرْبَعِينَ، فَفِيهَا شَاةٌ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةٌ، فَفِيهَا شَاتَانِ إِلَى الْمِائَتَيْنِ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةٌ، فَفِيهَا ثَلاثٌ إِلَى ثَلاثِمِائَةٍ، فَإِذَا كَثُرَتِ الْغَنَمُ فَفِي كُلِّ مِائَةٍ شَاةٌ، وَلا تُؤْخَذُ هَرِمَةٌ، وَلا ذَاتُ عَوَارٍ، إِلا أَنْ يَشَاءَ الْمُصَدِّقُ، وَيَعُدُّ صَغِيرَهَا وَكَبِيرَهَا، وَلا يَجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ، وَلا يُفَرِّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ"
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ سے کم اونٹوں میں کوئی زکوٰۃ نہیں ہے اور جب پندرہ اونٹ ہوجائیں تو بیس اونٹ ہونے تک تین بکریاں زکوٰۃ ہے۔“ پھر مکمّل روایت بیان کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اور پانچ سے کم اونٹوں میں زکوٰۃ نہیں ہے پھر جب پانچ اونٹ ہوجائیں تو دس ہونے تک ایک بکری زکوٰۃ ہے جب دس اونٹ ہوں تو ان میں دو بکریاں زکوٰۃ ہے حتّیٰ کہ تعداد پندرہ ہو جائے پھر جب پندرہ ہوجائیں گے تو پھر بیس ہونے تک تین بکریاں زکوٰۃ فرض ہے۔“ پھر مکمّل حدیث بیان کی۔ جب اونٹ زیادہ ہو جائیں تو ہر پچاس اونٹوں میں ایک حقہ (تین سالہ اونٹ) زکوٰۃ ہے۔ زکوٰۃ کی وصولی میں بوڑھا اور عیب دار جانور وصول نہیں کیا جائیگا الاّ یہ کہ تحصیل دار چاہے تو وصول کرلے اور وہ چھوٹے بڑے تمام اونٹ شمار کریگا اور چالیس سے کم بکریوں میں زکوٰۃ نہیں ہے۔ پھر جب چالیس بکریاں ہو جائیں تو ایک سو بیس ہونے تک ایک بکری زکٰوۃ ہے اور جب (اس تعداد سے) ایک بکری بھی زائد ہو جائے تو پھر دو سو ہونے تک دو بکریاں زکوٰۃ ہے۔ پھر ایک بکری زائد ہونے پر تین سو تک تین بکریاں زکوٰۃ ہے اور جب بکریاں زیادہ ہوجائیں تو پھر ہر سو بکریوں پر ایک بکری زکوٰۃ ہے اور بوڑھی اور عیب دار بکری وصول نہیں کی جائیگی الاّ یہ کہ وصول کنندہ لینا چاہے تو لے سکتا ہے اور وہ چھوٹی بڑی تمام بکریاں شمار کریگا اور زکوٰۃ کے ڈرسے اکٹھے جانور علیحدہ علیحدہ نہیں کیے جائیںگے اور نہ الگ الگ جانوروں کو یکجا کیا جائیگا۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة المواشي من الإبل والبقر والغنم/حدیث: 2262]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2262، 2270، 2284، 2297، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1458، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2476، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1572، والترمذي فى (جامعه) برقم: 620، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1790، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7360، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1892، وأحمد فى (مسنده) برقم: 722»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥علي بن أبي طالب الهاشمي، أبو الحسن، أبو الحسين | صحابي | |
👤←👥عاصم بن ضمرة السلولي عاصم بن ضمرة السلولي ← علي بن أبي طالب الهاشمي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥أبو إسحاق السبيعي، أبو إسحاق أبو إسحاق السبيعي ← عاصم بن ضمرة السلولي | ثقة مكثر | |
👤←👥أيوب بن جابر الحنفي، أبو سليمان أيوب بن جابر الحنفي ← أبو إسحاق السبيعي | ضعيف الحديث | |
👤←👥علي بن حجر السعدي، أبو الحسن علي بن حجر السعدي ← أيوب بن جابر الحنفي | ثقة حافظ |
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2262 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2262
فوائد:
➊ ان احادیث میں چوپایوں کی زکاۃ کا بیان ہے کہ جس طرح سونا اور چاندی کی زکاۃ واجب ہے، اسی طرح مذکورہ چوپایوں کی زکاۃ واجب ہے۔
➋ پانچ سے کم اونٹوں میں کوئی زکاۃ نہیں، البتہ اپنی خوشی سے صدقہ دیا جا سکتا ہے۔ لیکن جب اونٹ پانچ کی تعداد میں موجود ہوں تو پانچ اونٹوں میں ایک بکری زکاۃ ہے، پھر پانچ سے لے کر چوبیس تک ہر پانچ اونٹ میں ایک بکری ہے۔ پھر حدیث میں مذکورہ جس عدد تک اونٹ پہنچ جائیں، اس حساب سے زکاۃ ادا کی جائے۔
➌ چالیس سے کم بکریوں میں زکاۃ لازم نہیں، البتہ مالک اپنی خوشی سے صدقہ کر سکتا ہے۔ چالیس سے لے کر ایک سو بیس بکریوں کی زکاۃ ایک بکری ہے اور ایک سو بیس سے لے کر دو سو بکریوں میں دو بکریاں زکاۃ ہے، پھر دو سو کے بعد ہر سو عدد پر ایک ایک بکری زکاۃ ہے۔
➍ جن چوپایوں میں زکاۃ واجب ہے، ان کی تعداد میں چھوٹے بڑے سب جانور شامل ہوں گے اور جب مجموعی جانوروں کی تعداد نصاب کو پہنچ جائے تو ان جانوروں میں زکاۃ واجب ہو جاتی ہے۔
➊ ان احادیث میں چوپایوں کی زکاۃ کا بیان ہے کہ جس طرح سونا اور چاندی کی زکاۃ واجب ہے، اسی طرح مذکورہ چوپایوں کی زکاۃ واجب ہے۔
➋ پانچ سے کم اونٹوں میں کوئی زکاۃ نہیں، البتہ اپنی خوشی سے صدقہ دیا جا سکتا ہے۔ لیکن جب اونٹ پانچ کی تعداد میں موجود ہوں تو پانچ اونٹوں میں ایک بکری زکاۃ ہے، پھر پانچ سے لے کر چوبیس تک ہر پانچ اونٹ میں ایک بکری ہے۔ پھر حدیث میں مذکورہ جس عدد تک اونٹ پہنچ جائیں، اس حساب سے زکاۃ ادا کی جائے۔
➌ چالیس سے کم بکریوں میں زکاۃ لازم نہیں، البتہ مالک اپنی خوشی سے صدقہ کر سکتا ہے۔ چالیس سے لے کر ایک سو بیس بکریوں کی زکاۃ ایک بکری ہے اور ایک سو بیس سے لے کر دو سو بکریوں میں دو بکریاں زکاۃ ہے، پھر دو سو کے بعد ہر سو عدد پر ایک ایک بکری زکاۃ ہے۔
➍ جن چوپایوں میں زکاۃ واجب ہے، ان کی تعداد میں چھوٹے بڑے سب جانور شامل ہوں گے اور جب مجموعی جانوروں کی تعداد نصاب کو پہنچ جائے تو ان جانوروں میں زکاۃ واجب ہو جاتی ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2262]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2262 in Urdu
عاصم بن ضمرة السلولي ← علي بن أبي طالب الهاشمي