🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
179. ‏(‏178‏)‏ باب ذكر إيجاب الغسل بمماسة الختانين أو التقائهما، وإن لم يكن أمنى
شرم گاہوں کے باہم چھونے یا ملنے سے غسل واجب ہو جانے کا بیان، اگرچہ منی نہ نکلے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 227
نا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ ، نا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، نا حُمَيْدُ بْنُ هِلالٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ، أَنَّهُمْ كَانُوا جُلُوسًا، وَقَالَ مَنْ حَضَرَهُ مِنَ الأَنْصَارِ: لا حَتَّى يَدْفُقَ، قَالَ أَبُو مُوسَى: أَنَا آتِيكُمْ بِالْخَبَرِ، فَقَامَ إِلَى عَائِشَةَ رَضِي اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا فَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكِ عَنْ شَيْءٍ وَأنَا أَسْتَحِي مِنْهُ، فَقَالَتْ: لا تَسْتَحِ أَنْ تَسْأَلُ عَنْ شَيْءٍ تَسْأَلُ عَنْهُ أُمَّكَ الَّتِي وَلَدَتْكَ، فَإِنَّمَا أنَا أُمُّكَ، قَالَ: قُلْتُ: مَا يُوجِبُ الْغُسْلَ؟ قَالَتْ: عَلَى الْخَبِيرِ سَقَطْتَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا جَلَسَ بَيْنَ شُعَبِهَا الأَرْبَعِ، وَمَسَّ الْخِتَانُ الْخِتَانَ، وَجَبَ الْغُسْلُ"
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ (صحابہ کرام) بیٹھے ہوئے تھے تو اُنہوں نے غسل واجب کرنے والی چیز کا تذکرہ کیا۔ حاضرین میں ایک مہاجر صحابی نے فرمایا کہ جب ختنہ (شرمگاہ) ختنے سے مل جائے تو غسل واجب ہو جا تا ہے حاضرین میں سے ایک انصاری صحابی نے فرمایا کہ نہیں حتیٰ کہ وہ (منی) زوراور جوش سے نکل جا ئے۔ (اس تذکرے کو سن کر) سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں تمہیں اس کے متعلق خبر لا کر دیتا ہوں۔ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، اُنہیں سلام کیا، پھر عرض کی کہ میں آپ سے ایک چیز کے متعلق پوچھنا چاہتا ہوں مگر اس سے شرماتا ہوں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا، ایسا سوال پوچھتے ہوئے مت شرماؤ جسے تم اپنے جننے والی (حقیقی) ماں سے پوچھ سکتے ہو۔ بیشک میں بھی تمہاری ماں ہوں کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی کہ غسل کس چیز سے واجب ہوتا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ تم علم والے (باخبر اور مسئلے سےواقف) کے پاس آئے ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب (مرد) عورت کےچاروں شاخوں کےدرمیان بیٹھ گیا اور ختنہ ختنے سے مل گیا تو غسل واجب ہوجاتا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب غسل الجنابة/حدیث: 227]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 348، ومالك فى (الموطأ) برقم: 143، وابن الجارود فى "المنتقى"، 102، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 227، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1175، والترمذي فى (جامعه) برقم: 108، 109، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 608، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 783، والدارقطني فى (سننه) برقم: 392، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24843»


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عبد الله بن قيس الأشعري، أبو موسى
Newعبد الله بن قيس الأشعري ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
صحابي
👤←👥أبو بردة بن أبي موسى الأشعري، أبو بردة
Newأبو بردة بن أبي موسى الأشعري ← عبد الله بن قيس الأشعري
ثقة
👤←👥حميد بن هلال العدوي، أبو نصر
Newحميد بن هلال العدوي ← أبو بردة بن أبي موسى الأشعري
ثقة
👤←👥هشام بن حسان الأزدي، أبو عبد الله
Newهشام بن حسان الأزدي ← حميد بن هلال العدوي
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن عبد الله الأنصاري، أبو عبد الله
Newمحمد بن عبد الله الأنصاري ← هشام بن حسان الأزدي
ثقة
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى
Newمحمد بن المثنى العنزي ← محمد بن عبد الله الأنصاري
ثقة ثبت
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 227 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 227
فوائد:
➊ شروع اسلام میں غسل جنابت کی فرضیت کے لیے خروجِ منی شرط تھا۔
یعنی جب تک انزال نہ ہوتا، غسل جنابت فرض نہ ہوتا اور انزالِ منی کے بعد غسل فرض ہو جاتا تھا۔
پھر اس رخصت کو ختم کر دیا گیا اور یہ عمل منسوخ ہو گیا، لہٰذا فقط شرمگاہوں کے ملاپ ہی سے غسل واجب ہو جاتا ہے۔
خواہ منی کا خروج ہو یا نہ ہو۔
➋ علماء بیان کرتے ہیں کہ اب اس حدیث، شرمگاہوں کے ملاپ سے غسل واجب ہو جاتا ہے، پر عمل ہے اور جمہور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین اور جمہور علماء کا موقف ہے کہ حدیث پانی پانی سے ہے منسوخ ہو چکی ہے اور وہ نسخ سے مراد یہ لیتے ہیں کہ بلا انزال جماع سے غسل ساقط تھا پھر واجب ٹھہرا۔ [نووی: 35/4]
➌ ◈ امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
جماع کی صورت میں غسل کا واجب ہونا خروجِ منی پر موقوف نہیں ہے۔
بلکہ حشفہ کے دخول سے مرد و عورت دونوں پر غسل واجب ہو جاتا ہے، اس وقت اس مسئلہ میں کوئی اختلاف نہیں ہے، البتہ صحابہ اور تابعین میں اس مسئلہ میں اختلاف تھا، پھر اس مسئلہ پر علماء کا اجماع منعقد ہوا ہے۔ [نووی: 39/4]
➍ ◈ شوکانی رحمہ اللہ رقمطراز ہیں:
جماع کی صورت میں غسل کا واجب ہونا انزالِ منی پر موقوف نہیں بلکہ فقط شرمگاہ میں حشفہ داخل ہونے یا شرمگاہوں کے ملاپ ہی سے غسل واجب ہو جاتا ہے۔
خلفائے راشدین، عشرہ مبشرہ جمیع، فقہاء اور جمہور صحابہ و تابعین اور جمہور علماء کا یہی مذہب ہے۔ [نیل الأوطار: 238/1]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 227]

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 227 in Urdu