علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1634. (79) باب صدقة الفقير الذى يجوز له المسألة فى الصدقة،
اس فقیر کے صدقے کا بیان جسں کے لئے زکوٰۃ کا سوال کرنا جائز ہے
حدیث نمبر: Q2359
وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنْ لَا وَقْتَ فِيمَا يُعْطَى الْفَقِيرُ مِنَ الصَّدَقَةِ إِلَّا قَدْرً سُدُّ خُلَّتَهُ وَفَاقَتَهُ
اور اس بات کی دلیل کا بیان فقیر کو دیئے جانے والے صدقے کی کوئی مقدار معین نہیں ہے مگر اسے اس قدر دیا جائے گا جسں سے اس کا فقر دور ہو ؎جائے [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قسم الصدقات وذكر أهل سهمانها/حدیث: Q2359]
حدیث نمبر: 2359
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَحَفْصُ بْنُ عَمْرٍو الرَّبَالِيُّ ، قَالا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ . ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ هَارُونَ بْنِ رِيَابٍ ، عَنْ كِنَانَةَ بنِ نُعَيْمٍ ، عَنْ قَبِيصَةَ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْتَعِينُهُ فِي حَمَالَةٍ، فَقَالَ:" أَقِمْ عِنْدَنَا، فَإِمَّا أَنْ نَتَحَمَّلَهَا عَنْكَ، وَإِمَّا أَنْ نُعِينَكَ فِيهَا، وَاعْلَمْ: أَنَّ الْمَسْأَلَةَ لا تَحِلُّ لأَحَدٍ، إِلا لأَحَدِ ثَلاثَةٍ: رَجُلٌ يَحْمِلُ حَمَالَةً عَنْ قَوْمٍ، فَسَأَلَ فِيهَا حَتَّى يُؤَدِّيَهَا ثُمَّ يُمْسِكُ، وَرَجُلٌ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ أَذَهَبَتْ بِمَالِهِ، فَيَسْأَلُ حَتَّى يُصِيبَ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ، أَوْ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ ثُمَّ يُمْسِكُ، وَرَجُلٌ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ فَشَهِدَ لَهُ ثَلاثَةٌ مِنْ ذَوِي الْحِجَا مِنْ قَوْمِهِ، أَوْ مِنْ ذِي الصَّلاحِ أَنْ قَدْ حَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ فِيهَا حَتَّى يُصِيبَ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ، وَقَوَامًا مِنْ عَيْشٍ ثُمَّ يُمْسِكُ، وَمَا سِوَى ذَلِكَ مِنَ الْمَسَائِلِ سُحْتٌ يَأْكُلُهُ صَاحِبُهُ يَا قَبِيصَةُ، سُحْتًا" ، هَذَا حَدِيثُ الثَّقَفِيِّ
سیدنا قبیصہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تاکہ آپ تاوان کی ادائیگی میں میری مدد فرمائیں تو آپ نے فرمایا: ”ہمارے پاس ٹھہر جاؤ یا تو ہم تمہارا سارا تاوان ادا کردیںگے یا اس میں تمہارا تعاون کریںگے اور خوب جان لو، مانگنا صرف تین قسم کے افراد کے لئے جائز ہے۔ ایک وہ شخص جو کسی قوم کا تاوان یا خون بہا اپنے ذمے لے لیتا ہے تو وہ اس میں مدد کا سوال کرسکتا ہے حتّیٰ کہ وہ ادا ہو جائے تو مانگنا چھوڑ دے۔ دوسرا وہ شخص جس پر کوئی آفت آگئی ہو جس سے اس کا سارا مال ضائع ہوگیا ہو تو وہ سوال کرسکتا ہے حتّیٰ کہ وہ گزارے کے لئے مال حاصل کرلے۔ تیسرا وہ شخص جو فقر و فاقہ کا شکار ہوجائے اور اس کی قوم کے تین عقلمند یا قابل اعتماد شخص گواہی دیں کہ اسے فقر و فاقہ کا سامنا ہے تو اُس کے لئے مانگنا حلال ہے حتّیٰ کہ گزارے کے لئے مال حاصل کر ے پھر رک جائے اس کے علاوہ سوال کرنا حرام ہے۔ اے قبیصہ، اس کے سوا مانگنے والا حرام ہی کھائے گا۔“ یہ روایت جناب الثقفی کی ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قسم الصدقات وذكر أهل سهمانها/حدیث: 2359]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1044، وابن الجارود فى "المنتقى"، 404، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2359، 2360، 2361، 2375، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3291، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1640، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1720، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11518، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1995، 1996، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16161، والحميدي فى (مسنده) برقم: 838»
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2359 in Urdu
كنانة بن نعيم العدوي ← قبيصة بن المخارق الهلالي