صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1645. (90) باب إعطاء رؤساء الناس وقادتهم على الإسلام تألفا بالعطية
کسی قوم کے سرداروں اور لیڈروں کو اسلام پر پکا کرے کے لئے عطیہ دینے کا بیان
حدیث نمبر: 2373
حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ يَعْنِي ابْنَ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ وَهُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي نُعَيْمٍ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: بَعَثَ عَلِيٌّ مِنَ الْيَمَنِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَهَبٍ لَمْ يُخْلَصْ مِنْ تُرَابِهَا، فَقَسَمَهَا بَيْنَ أَرْبَعَةٍ: الأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ الْحَنْظَلِيِّ، وَعُيَيْنَةَ بْنِ حِصْنٍ الْمُرَادِيِّ، وَعَلْقَمَةَ بْنِ عُلاثَةَ الْجَعْفَرِيِّ، أَوْ عَامِرِ بْنِ الطُّفَيْلِ هُوَ شَكٌّ، وَزَيْدٍ الطَّائِيِّ، فَوَجَدَ مِنْ ذَلِكَ قَوْمٌ مِنْ أَصْحَابِهِ مِنَ الأَنْصَارِ وَغَيْرِهِمْ، فَبَلَغَهُ ذَلِكَ فَقَالَ: " أَلا تَأْتَمِنُونِي، وَأَنَا أَمِينُ مَنْ فِي السَّمَاءِ، يَأْتِينِي خَبَرُ مَنْ فِي السَّمَاءِ صَبَاحَ مَسَاءَ"
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یمن سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ سونا بھیجا جسے ابھی تک مٹی سے الگ بھی نہیں کیا گیا تھا (کان سے جیسا ملا تھا ویسا ہی تھا) تو نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ سونا چارافراد میں تقسیم کردیا (وہ افراد یہ ہیں) اقرع بن حابس الحنظلی، عیینہ بن حصن المرادی، علقمہ بن علاثہ الجعفری اور عامر بن طفیل یا زید الطائی۔ (راوی کو ان دو میں شک ہے کہ چوتھا کون تھا)۔ یہ بات آپ کے بعض انصاری اور دیگر صحابہ کرام کو ناگوار گزری۔ آپ کو اس کی اطلاع ملی تو آپ نے فرمایا: ”کیا تم مجھے امانتدار نہیں سمجھتے حالانکہ میں آسمان والے رب کا بھی امین ہوں۔ میرے پاس آسمان والے کی وحی صبح وشام آتی ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قسم الصدقات وذكر أهل سهمانها/حدیث: 2373]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3344، 3610، 4351، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1064، ومالك فى (الموطأ) برقم: 694، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2373، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 25، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2665، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4667، 4764، 4765، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 169، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 2903، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13068، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11164»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيد | صحابي | |
👤←👥عبد الرحمن بن أبي نعم البجلي، أبو الحكم عبد الرحمن بن أبي نعم البجلي ← أبو سعيد الخدري | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥عمارة بن القعقاع الضبي عمارة بن القعقاع الضبي ← عبد الرحمن بن أبي نعم البجلي | ثقة | |
👤←👥محمد بن الفضيل الضبي، أبو عبد الرحمن محمد بن الفضيل الضبي ← عمارة بن القعقاع الضبي | صدوق عارف رمي بالتشيع | |
👤←👥محمد بن يزيد الرفاعي، أبو هشام محمد بن يزيد الرفاعي ← محمد بن الفضيل الضبي | ضعيف الحديث |
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2373 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2373
فوائد:
➊ یہ احادیث دلیل ہیں کہ نومسلموں کی تالیفِ قلب کے لیے بیت المال سے خرچ کرنا جائز ہے اور اس بارے میں کئی احادیث وارد ہیں، جن میں بیان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نومسلم افراد کی دلجوئی کے لیے انہیں بیت المال سے عطا فرمایا۔ ان میں ابوسفیان بن حرب، صفوان بن امیہ، عیینہ بن حصین، اقرع بن حابس اور عباس بن مرداس رضی اللہ عنہم کو سو سو اونٹ دیے گئے۔ [نيل الأوطار: 6/461]
➋ یہ احادیث اس بات کی دلیل ہیں کہ تالیفِ قلب کے لیے نومسلموں کو بیت المال سے نوازنا جائز ہے۔ لیکن کیا انہیں زکات سے دیا جائے گا؟ اس بارے میں علما کا اختلاف ہے، اور ہمارے نزدیک راجح موقف یہ ہے کہ انہیں زکات اور بیت المال سے دینا جائز ہے۔ [شرح النووي: 15/72]
➌ نومسلم افراد مالدار و غنی ہوں تب بھی تالیفِ قلب اور اسلام سے مانوس کرنے کے لیے ان پر خرچ کرنا اور مالِ زکات سے دینا جائز ہے۔
➊ یہ احادیث دلیل ہیں کہ نومسلموں کی تالیفِ قلب کے لیے بیت المال سے خرچ کرنا جائز ہے اور اس بارے میں کئی احادیث وارد ہیں، جن میں بیان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نومسلم افراد کی دلجوئی کے لیے انہیں بیت المال سے عطا فرمایا۔ ان میں ابوسفیان بن حرب، صفوان بن امیہ، عیینہ بن حصین، اقرع بن حابس اور عباس بن مرداس رضی اللہ عنہم کو سو سو اونٹ دیے گئے۔ [نيل الأوطار: 6/461]
➋ یہ احادیث اس بات کی دلیل ہیں کہ تالیفِ قلب کے لیے نومسلموں کو بیت المال سے نوازنا جائز ہے۔ لیکن کیا انہیں زکات سے دیا جائے گا؟ اس بارے میں علما کا اختلاف ہے، اور ہمارے نزدیک راجح موقف یہ ہے کہ انہیں زکات اور بیت المال سے دینا جائز ہے۔ [شرح النووي: 15/72]
➌ نومسلم افراد مالدار و غنی ہوں تب بھی تالیفِ قلب اور اسلام سے مانوس کرنے کے لیے ان پر خرچ کرنا اور مالِ زکات سے دینا جائز ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2373]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2373 in Urdu
عبد الرحمن بن أبي نعم البجلي ← أبو سعيد الخدري