🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1647. ‏(‏92‏)‏ باب الدليل على أن الغارم الذى يجوز إعطاؤه من الصدقة
اس بات کی دلیل کا بیان کہ جس مقروض زکوٰۃ کے مال سے دینا جائز ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2375
وَإِنْ كَانَ غَنِيًّا هُوَ الْغَارِمُ فِي الْحِمَالَةِ ‏"‏ وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّهُ يُعْطَى قَدْرَ مَا يُؤَدِّي الْحِمَالَةُ لَا أَكْثَرَ
وہ ایسا مقروض ہے جس نے کوئی خون بہایا تاوان اپنے ذمے لیا ہو، اگرچہ وہ خود مالدار ہی ہو۔ اسے صرف اتنا مال ہی دیا جائے گا جس سے اس کا تاوان وغیرہ ادا ہوجائے۔ اس سے زیادہ نہیں دیا جائے گا [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قسم الصدقات وذكر أهل سهمانها/حدیث: Q2375]
 
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2375
حَدَّثَنَا أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، وَالْحَسَنُ بْنُ عِيسَى الْبِسْطَامِيُّ ، وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هَارُونَ بْنِ رِيَابٍ ، عَنْ كِنَانَةَ بنِ نُعَيْمٍ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ ، قَالَ: تَحَمَّلْتُ حَمَالَةً، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ فِيهَا، فَقَالَ:" نُؤَدِّيهَا عَنْكَ وَنُخْرِجُهَا مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ، ثُمَّ قَالَ: يَا قَبِيصَةُ، إِنَّ الْمَسْأَلَةَ حَرُمَتْ، إِلا فِي ثَلاثٍ: رَجُلٍ تَحَمَّلَ حَمَالَةً حَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُؤَدِّيَهَا، ثُمَّ يُمْسِكُ، وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ اجْتَاحَتْ مَالَهُ حَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ أَوْ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ، ثُمَّ يُمْسِكُ، وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ، وَفَاقَةٌ حَتَّى يَتَكَلَّمَ أَوْ يَشْهَدَ ثَلاثَةٌ مِنْ ذَوِي الْحِجَا مِنْ قَوْمِهِ أَنَّهُ قَدْ حَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ، حَتَّى يُصِيبَ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ أَوْ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ، ثُمَّ يُمْسِكُ فَمَا سِوَى ذَلِكَ فَهُوَ سُحْتٌ" ، قَالَ الْبِسْطَامِيُّ: وَنُخْرِجُهَا مِنَ الصَّدَقَةِ
سیدنا قبیصہ بن مخارق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک خون بہا، یا تاوان اپنے ذمے لیا تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس سلسلے میں تعاون لینے کے لئے حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم تمہاری طرف سے یہ رقم ادا کر دیںگے اور اس کی ادائیگی زکوٰۃ کے اونٹوں میں سے کریںگے۔ پھر فرمایا: اے قبیصہ، سوال کرنا حرام ہے سوائے تین اشخاص کے۔ ایک وہ شخص جس نے کوئی قرض یا تاوان اپنے ذمے لے لیا ہو تو اُس کے لئے مانگنا درست ہے حتّیٰ کہ اسکی ادائیگی ہو جائے پھر مانگنے سے رُک جائے۔ دوسرا وہ شخص جسے کسی آفت نے آ لیا ہو اور اُس کا مال برباد ہوگیا ہو تو اس کے لئے سوال کرنا حلال ہے حتّیٰ کہ اُس کی گزران سیدھی ہو جائے پھر مانگنا چھوژ دے۔ تیسرا وہ شخص جسے آفت و فاقہ نے لاچار کردیا ہو، حتّیٰ کہ اسکی قوم کے تین افراد اس کے بارے میں بتائیں یا گواہی دیں کہ اس کے لئے سوال کرنا حلال ہوچکا ہے۔ (پھر وہ مانگ سکتا ہے) حتّیٰ کہ وہ گزارے کے لئے مال حاصل کرلے پھر مانگنے سے باز آجائے، اس کے سوا مانگنا حرام ہے۔ جناب بسطامی کی روایت میں ہے کہ ہم یہ قرض زکوٰۃ سے ادا کریںگے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قسم الصدقات وذكر أهل سهمانها/حدیث: 2375]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1044، وابن الجارود فى "المنتقى"، 404، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2359، 2360، 2361، 2375، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3291، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1640، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1720، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11518، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1995، 1996، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16161، والحميدي فى (مسنده) برقم: 838»
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥قبيصة بن المخارق الهلالي، أبو بشرصحابي
👤←👥كنانة بن نعيم العدوي، أبو بكر
Newكنانة بن نعيم العدوي ← قبيصة بن المخارق الهلالي
ثقة
👤←👥هارون بن رئاب التميمي، أبو الحسن، أبو بكر
Newهارون بن رئاب التميمي ← كنانة بن نعيم العدوي
ثقة
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← هارون بن رئاب التميمي
ثقة حافظ حجة
👤←👥يونس بن عبد الأعلي الصدفي، أبو موسى
Newيونس بن عبد الأعلي الصدفي ← سفيان بن عيينة الهلالي
ثقة
👤←👥الحسين بن عيسى الطائي، أبو علي
Newالحسين بن عيسى الطائي ← يونس بن عبد الأعلي الصدفي
ثقة
👤←👥زياد بن أيوب الطوسي، أبو هاشم
Newزياد بن أيوب الطوسي ← الحسين بن عيسى الطائي
ثقة حافظ
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2375 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2375
فوائد:
«غَارِمِينَ» جو لوگ کسی قرض دار کے قرض کے ضامن بنیں اور عدم ادائیگی کی صورت میں یہ تاوان بھریں، تو ایسے لوگوں کی مالی اعانت کرنا جائز ہے۔
اور انہیں صدقہ و خیرات دینا کہ یہ تاوان کی رقم مکمل کر لیں، جائز ہے۔
نیز غارمین کے لیے مصارفِ زکات میں سے ایک باقاعدہ مصرف ہے، جس مد میں ان پر خرچ کرنا جائز ہے اور یہ صدقہ و خیرات کے مستحق ہیں۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2375]

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2375 in Urdu