الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1665. (110) باب الدليل على أن فرض صدقة الفطر على الذكر والأنثى والحر والمملوك
اس بات کی دلیل کا بیان کہ صدقہ فطر ہر مرد، عورت آزاد اور غلام شخص پر واجب ہے
تخریج الحدیث:
حدیث نمبر: 2395
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، وَمُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ ، وَالْحَسَنُ بْنُ الزَّعْفَرَانِيِّ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ الزَّعْفَرَانِيُّ: ابْنُ عُلَيَّةَ , قَالَ أَحْمَدُ، وَزِيَادٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، وَقَالَ مُؤَمَّلٌ، وَالزَّعْفَرَانِيُّ: عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَةَ رَمَضَانَ عَلَى الذَّكَرِ وَالأُنْثَى، وَالْحُرِّ وَالْمَمْلُوكِ، صَاعَ تَمْرٍ أَوْ صَاعَ شَعِيرٍ" ، قَالَ: فَعَدَلَ النَّاسُ نِصْفَ صَاعِ بُرٍّ، لَمْ يَقُلْ أَحْمَدُ، وَمُؤَمَّلٌ بَعْدُ، زَادَ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ: فَقَالَ نَافِعٌ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ يُعْطِي التَّمْرَ، إِلا عَامًا وَاحِدًا أَعْوَزَ مِنَ التَّمْرِ، فَأَعْطَى الشَّعِيرَ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر مرد، عورت، آزاد اور غلام شخص پر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو صدقہ رمضان فرض کیا ہے۔ پھر لوگوں نے گندم کا نصف صاع اس کے برابر قرار دیدیا۔ اس کے بعد کا کلام جناب احمد اور مؤمل کی روایت میں موجود نہیں ہے۔ جبکہ زیاد بن ایوب کی روایت میں بعد والا اضافہ موجود ہے کہتے ہیں کہ امام نافع رحمه الله نے فرمایا کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کھجور ہی سے صدقہ فطر دیا کرتے تھے۔ سوائے ایک سال کے کہ اس سال کھجوریں نایاب ہوگئیں تو انہوں نے جَو سے صدقہ فطر ادا کیا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة الفطر فى رمضان/حدیث: 2395]
تخریج الحدیث: تقدم۔۔۔
الرواة الحديث:
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي