صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1675. (120) باب الدليل على أنهم أمروا بنصف صاع حنطة إذا كان ذلك قيمة صاع تمر أو شعير،
اس بات کی دلیل کا بیان کہ لوگوں کو صدقہ فطر میں نصف صاع گندم ادا کرنے کا حُکم اس وقت دیا گیا تھا جبکہ یہ ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو کی قیمت تھی۔ اگر قیمت ہی کو بنیاد بنایا جائے تو پھر بعض اوقات بعض شہروں میں گندم کے کئی صاع صدقہ فطر میں دینے پڑھیں گے (کیونکہ گندم کی قیمت کھجور سے کم ہوگی)
حدیث نمبر: Q2407
وَالْوَاجِبُ عَلَى هَذَا الْأَصْلِ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِآصِعٍ مِنْ حِنْطَةٍ فِي بَعْضِ الْأَزْمَانِ وَبَعْضِ الْبُلْدَانِ.
وَالْوَاجِبُ عَلَى هَذَا الْأَصْلِ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِآصِعٍ مِنْ حِنْطَةٍ فِي بَعْضِ الْأَزْمَانِ وَبَعْضِ الْبُلْدَانِ. [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة الفطر فى رمضان/حدیث: Q2407]
حدیث نمبر: 2407
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ عِيَاضٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: " لَمْ نَزَلْ نُخْرِجُ عَلَى عَهْدِ الرَّسُولِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، وَصَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، وَصَاعًا مِنْ أَقِطٍ ، فَلَمْ تَزَلْ حَتَّى كَانَ مُعَاوِيَةُ، فَقَالَ: أَرَى إِنَّ صَاعًا مِنْ سَمْرَاءِ الشَّامِ تَعْدِلُ صَاعَيْ تَمْرٍ، فَأَخَذَ بِهِ النَّاسُ"
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ایک صاع کھجور، ایک صاع جَو ایک صاع پنیر ہی ادا کرتے رہے۔ آپ کے بعد بھی یہی معمول رہا حتّیٰ کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا دور حکو مت آیا تو اُنہوں نے فرمایا کہ میری رائے میں شام کی گندم کا ایک صاع کھجور کے دو صاع کے برابر ہے تو لوگوں نے اسی رائے کے مطابق (نصف صاع گندم صدقہ فطر) ادا کرنا شروع کردیا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة الفطر فى رمضان/حدیث: 2407]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1505، 1506، 1508، 1510، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 985،، ومالك فى (الموطأ) برقم: 990، وابن الجارود فى "المنتقى"، 393، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2407، 2408، 2413، 2414، 2418، 2419، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3305، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1500، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2510، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1616، 1618، والترمذي فى (جامعه) برقم: 673، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1829، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7766، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2096، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11249»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيد | صحابي | |
👤←👥عياض بن عبد الله العامري عياض بن عبد الله العامري ← أبو سعيد الخدري | ثقة | |
👤←👥داود بن قيس القرشي، أبو سليمان داود بن قيس القرشي ← عياض بن عبد الله العامري | ثقة | |
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد يحيى بن سعيد القطان ← داود بن قيس القرشي | ثقة متقن حافظ إمام قدوة | |
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر محمد بن بشار العبدي ← يحيى بن سعيد القطان | ثقة حافظ |
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2407 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2407
فوائد:
➊ یہ احادیث اس بات کی دلیل ہیں کہ فطرانہ میں مروجہ پیمانہ ہر جنس سے ایک صاع ادا کرنا ہے۔ عہدِ رسالت میں ہر جنس سے فطرانہ کی ادائیگی صاع ہی کی صورت میں ہوئی تھی، مختلف اجناس کی گرانی پیشِ نظر نہیں تھی۔ معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں ذاتی رائے سے گندم کا نصف صاع فطرانہ مقرر کیا۔ پھر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کا ان کے اس اجتہاد کی مخالفت کرنا اور احادیثِ نبویہ سے ہر جنس سے ایک صاع فطرانہ کی مقدار کی تعیین اس بات کی دلیل ہے کہ گندم اور دیگر اجناس میں سے ایک صاع ہی ادا کیا جائے، یہی موقف راجح اور قرینِ صواب ہے۔
➋ اجناس کی قیمتوں کا تعیین مقصود ہو تو اس اجتہاد کے پیشِ نظر چونکہ مختلف اجناس کی قیمتیں مختلف ہیں اور کوئی ایک جنس فطرانہ میں معین نہیں، لہذا اگر کھجور اور انگور کو معیار مقرر کیا جائے تو ان کی قیمتوں کے مقابلہ میں اب گندم کے کئی صاع فطرانہ بنتے ہیں۔ اور اگر گندم اور جو کو معیار مقرر کیا جائے، تو فطرانہ میں کھجور اور انگور کی مقدار صاع سے کہیں کم بنے گی۔ لہذا احادیثِ نبوی اور فطرانہ کی صحیح ادائیگی کے لیے ہر جنس سے صاع متعین کرنا ہی بہتر ہے۔
➊ یہ احادیث اس بات کی دلیل ہیں کہ فطرانہ میں مروجہ پیمانہ ہر جنس سے ایک صاع ادا کرنا ہے۔ عہدِ رسالت میں ہر جنس سے فطرانہ کی ادائیگی صاع ہی کی صورت میں ہوئی تھی، مختلف اجناس کی گرانی پیشِ نظر نہیں تھی۔ معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں ذاتی رائے سے گندم کا نصف صاع فطرانہ مقرر کیا۔ پھر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کا ان کے اس اجتہاد کی مخالفت کرنا اور احادیثِ نبویہ سے ہر جنس سے ایک صاع فطرانہ کی مقدار کی تعیین اس بات کی دلیل ہے کہ گندم اور دیگر اجناس میں سے ایک صاع ہی ادا کیا جائے، یہی موقف راجح اور قرینِ صواب ہے۔
➋ اجناس کی قیمتوں کا تعیین مقصود ہو تو اس اجتہاد کے پیشِ نظر چونکہ مختلف اجناس کی قیمتیں مختلف ہیں اور کوئی ایک جنس فطرانہ میں معین نہیں، لہذا اگر کھجور اور انگور کو معیار مقرر کیا جائے تو ان کی قیمتوں کے مقابلہ میں اب گندم کے کئی صاع فطرانہ بنتے ہیں۔ اور اگر گندم اور جو کو معیار مقرر کیا جائے، تو فطرانہ میں کھجور اور انگور کی مقدار صاع سے کہیں کم بنے گی۔ لہذا احادیثِ نبوی اور فطرانہ کی صحیح ادائیگی کے لیے ہر جنس سے صاع متعین کرنا ہی بہتر ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2407]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2407 in Urdu
عياض بن عبد الله العامري ← أبو سعيد الخدري