صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
191. (190) باب استحباب بدء المغتسل بإفاضة الماء على الميامن قبل المياسر.
غسل کرنے والے کے لیے بائیں اعضاء سے پہلے دائیں اعضاء پر پانی ڈالنا اور شروع کرنا مستحب ہے
حدیث نمبر: 245
نا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ، نا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَغْتَسِلُ مِنْ حِلابٍ، فَيَأْخُذُ بِكَفَّيْهِ فَيَجْعَلُهُ عَلَى شِقِّهِ الأَيْمَنِ، وَيَأْخُذُ بِكَفَّيْهِ فَيَجْعَلُهُ عَلَى شِقِّهِ الأَيْسَرِ، ثُمَّ يَأْخُذُ بِكَفَّيْهِ فَيَجْعَلُهُ فِي وَسَطِ رَأْسِهِ"
حضرت قاسم رحمہ اللہ کہتےہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دودھ والے برتن سے غسل کیا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں ہاتھوں سے (پانی) لیتے تو اُسے اپنے (سرکی) دائیں جانب پر ڈالتے، اور اپنے دونوں ہاتھوں سے (پانی) لیتے اور اُسے اپنے (سرکی) بائیں جانب پر ڈالتے۔ پھر اپنے دونوں ہاتھوں سے پانی لیتے تو اُسے اپنے سر کے درمیان میں ڈالتے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب غسل الجنابة/حدیث: 245]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 248، 251، 258، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 316، ومالك فى (الموطأ) برقم: 138، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 242، 245، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1191، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 227، وأبو داود فى (سننه) برقم: 240، 242، والترمذي فى (جامعه) برقم: 104، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 828، والدارقطني فى (سننه) برقم: 402، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24895»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 245 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 245
فوائد:
➊ یہ احادیث دلیل ہیں کہ غسل میں دائیں اعضاء کو مقدم رکھنا اور بائیں اعضاء کو مؤخر کرنا مستحب فعل ہے۔
وضو، غسل اور عام معمولات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی معمول تھا۔
البتہ دائیں اعضاء کی تقدیم واجب نہیں، اگر اس کے برعکس بائیں اعضاء کو دھونے میں مقدم کیا جائے تو غسل صحیح ہوگا، بشرطیکہ تمام بدن پر پانی بہایا جائے اور جسم کا کوئی حصہ خشک نہ رہے۔
➋ سر پر تین لپ پانی ڈالنے کی ترتیب یہ ہے کہ پہلی لپ سر کے دائیں جانب، دوسری بائیں جانب اور تیسری وسطِ سر میں ڈالی جائے۔
یہ ترتیب مسنون و مستحب ہے۔
➊ یہ احادیث دلیل ہیں کہ غسل میں دائیں اعضاء کو مقدم رکھنا اور بائیں اعضاء کو مؤخر کرنا مستحب فعل ہے۔
وضو، غسل اور عام معمولات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی معمول تھا۔
البتہ دائیں اعضاء کی تقدیم واجب نہیں، اگر اس کے برعکس بائیں اعضاء کو دھونے میں مقدم کیا جائے تو غسل صحیح ہوگا، بشرطیکہ تمام بدن پر پانی بہایا جائے اور جسم کا کوئی حصہ خشک نہ رہے۔
➋ سر پر تین لپ پانی ڈالنے کی ترتیب یہ ہے کہ پہلی لپ سر کے دائیں جانب، دوسری بائیں جانب اور تیسری وسطِ سر میں ڈالی جائے۔
یہ ترتیب مسنون و مستحب ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 245]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 245 in Urdu
القاسم بن محمد التيمي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق