علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1703. (148) باب ذكر الدليل على أن النبى صلى الله عليه وسلم إنما فضل صدقة المقل إذا كان فضلا عمن يعول، ولا إذا تصدق على الأباعد وترك من يعول جياعا
اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کم مالدار شخص کے صدقے کو افضل اس وقت قرار دیا ہے جبکہ وہ مال اس کے اہل و عیال کی ضروریات سے زائد ہو، نہ کہ وہ صدقہ جو دور کے لوگوں پر کیا جائے اور اپنے اہل و عیال کو بھوکا چھوڑ دے
حدیث نمبر: 2452
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فَقِيرًا، فَلْيَبْدَأْ بِنَفْسِهِ، فَإِنْ كَانَ فَضْلا فَعَلَى عِيَالِهِ، فَإِنْ كَانَ فَضْلا فَعَلَى قَرَابَتِهِ أَوْ ذِي رَحِمِهِ، فَإِنْ كَانَ فَضْلا فَهَا هُنَا وَهَاهُنَا"
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص ضرورتمند اور محتاج ہو تو سب سے پہلے اپنی جان پر خرچ کرے۔ پھر اگر مال بچ جائے تو اپنے گھر والوں پر خرچ کرے، اگر پھر بھی مال بچ جائے تو اسے اپنے قرابتدار رشتہ داروں پر خرچ کرے، اسکے بعد بھی مال زیادہ موجود ہو تو اسے ادھر اُدھر محتاج لوگوں میں تقسیم کردے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة التطوع/حدیث: 2452]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2141، 2230، 2231، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 997، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1056، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2445، 2452، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3339، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2545، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3955، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1219، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2512، 2513، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 439، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7849، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4258، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14349»
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2452 in Urdu
محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري