صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1731. (176) باب إباحة حبس آبار المياه
پانی کے کنویں وقف کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 2487
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ: سَمِعْتُ حُصَيْنًا يَذْكُرُ، عَنْ عُمَرَ بْنِ جَاوَانَ ، عَنِ الأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ ، فَذَكَرَ حَدِيثًا طَوِيلا فِي قَتْلِ عُثْمَانَ، وَقَالَ: فَإِذَا عَلِيٌّ ، وَالزُّبَيْرُ ، وَطَلْحَةُ ، وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ ، وَأَنَا كَذَلِكَ إِذْ جَاءَ عُثْمَانُ ، فَقَالَ: أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي لا إِلَهَ إِلا هُوَ، أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " مَنْ يَبْتَاعُ بِئْرَ رُومَةَ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ"، فَابْتَعْتُهَا بِكَذَا وَكَذَا وَأَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ: قَدِ ابْتَعْتُهَا بِكَذَا، قَالَ:" اجْعَلْهَا سِقَايَةً لِلْمُسْلِمِينَ، وَأَخِّرْهَا لَكَ"، قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ
حضرت احنف بن قیس رحمه الله نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بارے میں ایک طویل حدیث بیان کی۔ اور فرمایا تو اچانک سیدنا علی، زبیر، طلحہ اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم آگئے جبکہ میں اسی حالت میں کھڑا تھا۔ پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو اُنہوں نے فرمایا کہ میں تمہیں اس اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس اللہ کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ہے کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”کون ہے جو رومہ کا کنواں خریدے (اور مسلمانوں کے لئے وقف کردے) اللہ اس کی بخشش فرمائے۔“ تو میں نے وہ کنواں اتنا اتنا مال دے کر خرید لیا۔ پھر میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے عرض کیا کہ میں نے وہ کنواں اتنی قیمت دیکر خرید لیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس کنویں کو مسلمانوں کے لئے سبیل بنادو (لوگ اس سے پانی پئیں اور پلائیں) اور اس کا اجر تمہیں ملے گا۔ سب سامعین نے کہا کہ ہاں یقیناً ایسا ہی ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الصدقات والمحبسات/حدیث: 2487]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2487، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6920، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3182، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12054، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4436، وأحمد فى (مسنده) برقم: 518»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2487 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2487
فوائد:
➊ کنویں وغیرہ وقف کرنا جائز ہے اور پانی کی فراہمی بہت بڑی نیکی اور عظیم ثواب کا باعث ہے۔
➋ اس حدیث میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان ہے کہ انہوں نے بئر رومہ خرید کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطالبہ پر اسے مسلمانوں کے لیے وقف کر دیا تھا۔ لیکن بلوائیوں نے عثمان رضی اللہ عنہ پر ظلم و ستم کے اتنے پہاڑ توڑے کہ انہیں ان کے وقف شدہ کنویں سے محروم کر دیا۔
➊ کنویں وغیرہ وقف کرنا جائز ہے اور پانی کی فراہمی بہت بڑی نیکی اور عظیم ثواب کا باعث ہے۔
➋ اس حدیث میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان ہے کہ انہوں نے بئر رومہ خرید کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطالبہ پر اسے مسلمانوں کے لیے وقف کر دیا تھا۔ لیکن بلوائیوں نے عثمان رضی اللہ عنہ پر ظلم و ستم کے اتنے پہاڑ توڑے کہ انہیں ان کے وقف شدہ کنویں سے محروم کر دیا۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2487]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2487 in Urdu
سعد بن أبي وقاص الزهري ← عثمان بن عفان