صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1740. (185) باب الصدقة عن الميت إذا توفي عن غير [وصية، وانتفاع] الميت فى الآخرة بها
میت کی طرف سے صدقہ کرنے کا بیان جبکہ وہ وصیت کیئے بغیر فوت ہوگیا ہو۔ میت کو آخرت میں اس صدقے کا فائدہ ہوگا
حدیث نمبر: 2501
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْجَوْهَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي يَعْلَى وَهُوَ ابْنُ حَكِيمٍ ، أَنَّ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، أَخْبَرَهُ قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ أَخَا بَنِي سَاعِدَةَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أُمِّي تُوُفِّيَتْ، وَأَنَا غَائِبٌ، فَهَلْ يَنْفَعُهَا إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا بِشَيْءٍ؟ قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: فَإِنِّي أُشْهِدُكَ أَنَّ حَائِطِي الَّذِي بِالْمِخْرَافِ صَدَقَةٌ عَنْهَا .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ بنی ساعدہ کے سردار سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، میری والدہ اس وقت فوت ہوگئی ہیں جبکہ میں اُن کے پاس موجود نہیں تھا اگر میں اُن کی طرف سے کوئی چیز صدقہ کروں تو وہ صدقہ اُنہیں فائدہ دیگا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میرا مخراف (کھجوروں) والا باغ اُن کی طرف سے صدقہ ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الصدقات والمحبسات/حدیث: 2501]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2756، 2762، 2770، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2501، 2502، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1536، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3656، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2882، والترمذي فى (جامعه) برقم: 669، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12755، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3139»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2501 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2501
فوائد:
➊ یہ احادیث دلیل ہیں کہ میت کی طرف سے صدقہ کرنا جائز و مستحب ہے اور میت کی طرف سے کیے جانے والے صدقات کا ثواب میت کو پہنچتا ہے۔ ایسے صدقات میت اور صدقہ کرنے والے دونوں کو فائدہ دیتے ہیں، اس پر تمام اہل اسلام کا اجماع ہے۔ نیز یہ احادیث اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَى﴾ ”انسان کے لیے وہی ہے جس کے لیے اس نے کوشش کی۔“ [سورة النجم: 39] کو خاص کرنے والی ہیں۔ [شرح النووي: 84/11]
➋ میت صدقہ کی وصیت کرے تو ایسی وصیت قرآن و سنت کے موافق ہو تو اس پر عمل کرنا چاہیے۔
➌ میت کی طرف سے صدقہ و خیرات میت کے لیے مفید ہیں۔
➍ میت کے لیے افضل صدقہ کنواں کھدوانا، نل لگوانا یا عامۃ الناس کی بہتری کے لیے پبلک مقامات پر پانی کا بندوبست کرنا ہے، یہ زندہ اور مردہ شخص کی طرف سے بہترین صدقہ کی قسم ہے۔
➊ یہ احادیث دلیل ہیں کہ میت کی طرف سے صدقہ کرنا جائز و مستحب ہے اور میت کی طرف سے کیے جانے والے صدقات کا ثواب میت کو پہنچتا ہے۔ ایسے صدقات میت اور صدقہ کرنے والے دونوں کو فائدہ دیتے ہیں، اس پر تمام اہل اسلام کا اجماع ہے۔ نیز یہ احادیث اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَى﴾ ”انسان کے لیے وہی ہے جس کے لیے اس نے کوشش کی۔“ [سورة النجم: 39] کو خاص کرنے والی ہیں۔ [شرح النووي: 84/11]
➋ میت صدقہ کی وصیت کرے تو ایسی وصیت قرآن و سنت کے موافق ہو تو اس پر عمل کرنا چاہیے۔
➌ میت کی طرف سے صدقہ و خیرات میت کے لیے مفید ہیں۔
➍ میت کے لیے افضل صدقہ کنواں کھدوانا، نل لگوانا یا عامۃ الناس کی بہتری کے لیے پبلک مقامات پر پانی کا بندوبست کرنا ہے، یہ زندہ اور مردہ شخص کی طرف سے بہترین صدقہ کی قسم ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2501]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2501 in Urdu
عكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي