صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1767. (26) باب الرخصة فى الخروج إلى الحج ماشيا لمن قدر على المشي، ولم يكن عيالا على رفقائه
جو شخص پیدل چلنے کی طاقت رکھتا ہو اور اپنے ساتھیوں کا محتاج نہ ہو تو اسے پیدل سفر کر کے حج کرنے کی رخصت ہے
حدیث نمبر: 2534
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ ," أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَامَ بِالْمَدِينَةِ تِسْعَ سِنِينَ، لَمْ يَحُجَّ ثُمَّ أَذِنَ بِالْحَجِّ، فَقِيلَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجٌّ، فَقَدِمَ الْمَدِينَةَ بَشَرٌ كَثِيرٌ كُلُّهُمْ يُحِبُّ أَنْ يَأْتَمَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، فَذَكَرَ بَعْضَ الْحَدِيثِ وَقَالَ:" ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَعْنِي مِنَ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ فَرَكِبَ وَمَعَهُ بَشَرٌ كَثِيرٌ رُكْبَانٌ وَمُشَاةٌ" ، ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منوّرہ میں نوسال قیام کیا مگر اس دوران میں حج نہیں کیا پھر آپ نے حج کرنے کا اعلان کردیا یہ سن کر کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (اس سال) حج ادا فرمائیںگے بیشمار لوگ مدینہ منوّرہ آگئے ہر کسی کی خواہش تھی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں حج کرے۔ پھر کچھ حدیث بیان کی اور فرمایا کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (احرام باندھ کر) مسجد ذوالحلیفہ سے روانہ ہوئے تو سواری پر سوار ہوگئے جبکہ آپ کے ساتھ بیشمار لوگ سواریوں پر سوار اور بہت سارے پیدل چل رہے تھے پھر بقیہ حدیث بیان کی۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: المناسك/حدیث: 2534]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1557، 1568، 1570، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1213، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1340، وابن الجارود فى "المنتقى"، 500، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 957، 2534، 2603، 2620، 2626، 2687، 2709، 2713، 2717، 2718، 2754، 2755، 2756، 2757، 2778، 2785، 2786، 2787، 2794، 2802، 2809، 2811، 2812، 2815، 2826، 2835، 2853، 2855، 2857، 2858، 2862، 2864، 2875، 2876، 2877، 2890، 2892، 2900، 2901، 2924، 2926، 2944، 2968، 2969، 3025، 3026، 3056، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1457، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1785، والترمذي فى (جامعه) برقم: 817، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1008، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 400، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2533، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11942»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2534 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2534
فوائد:
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ جن کے پاس سواری کا بندوبست نہ ہو اور وہ حج کے لیے بے تاب ہوں تو وہ پیدل بھی سفر کر سکتے ہیں۔
➋ البتہ سواری کی دستیابی کے باوجود یہ تکلف کہ پیدل چلنے کی نذر ماننا اور جان بوجھ کر خود کو مشقت میں ڈالنا جائز نہیں ہے۔
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ جن کے پاس سواری کا بندوبست نہ ہو اور وہ حج کے لیے بے تاب ہوں تو وہ پیدل بھی سفر کر سکتے ہیں۔
➋ البتہ سواری کی دستیابی کے باوجود یہ تکلف کہ پیدل چلنے کی نذر ماننا اور جان بوجھ کر خود کو مشقت میں ڈالنا جائز نہیں ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2534]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2534 in Urdu
محمد الباقر ← جابر بن عبد الله الأنصاري