صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1769. (28) بَابُ اسْتِحْبَابِ النَّسْلِ فِي الْمَشْيِ عِنْدَ الْإِعْيَاءِ مِنَ الْمَشْيِ، لِيَخِفَّ النَّاسِلُ وَيَذْهَبَ بَعْضُ الْإِعْيَاءُ عَنْهُ
پیدل سفر کرتے ہوئے تھکاوٹ محسوس ہو تو تیز چلنا مستحب ہے تاکہ تیز چلنے والا ہکا پھلکا محسوس کرے اور کچھ تھکاوٹ کم ہوجائے
حدیث نمبر: 2537
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: شَكَا نَاسٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَشْيَ، فَدَعَا بِهِمْ، وَقَالَ:" عَلَيْكُمْ بِالنَّسْلانُ" ، فَنَسَلْنَا فَوَجَدْنَاهُ أَخَفَّ عَلَيْنَا
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ کرام نے پیدل چلنے میں مشقّت کا شکوہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنہیں بلایا اور حُکم دیا: ”تم تیز رفتاری سے چلو۔“ صحابہ کرام فرماتے ہیں کہ ہم تیز چلے تو ہم نے اس میں آسانی اور سہولت پائی۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: المناسك/حدیث: 2537]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2537، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1625، 2505، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10455، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 2010، وأخرجه الطبراني فى (الأوسط) برقم: 8102»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2537 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2537
فوائد:
➊ ان احادیث میں سفر کے آداب میں سے ایک ادب یہاں بیان ہوا ہے کہ دورانِ سفر پیادہ لوگ اگر تھکاوٹ محسوس کریں تو وہ اس مشقت سے بچنے کے لیے تیز قدم چلیں۔
➋ اس سے ان کا سفر بھی سمٹ جائے گا اور تھکن وغیرہ بھی ختم ہو جائے گی۔
➊ ان احادیث میں سفر کے آداب میں سے ایک ادب یہاں بیان ہوا ہے کہ دورانِ سفر پیادہ لوگ اگر تھکاوٹ محسوس کریں تو وہ اس مشقت سے بچنے کے لیے تیز قدم چلیں۔
➋ اس سے ان کا سفر بھی سمٹ جائے گا اور تھکن وغیرہ بھی ختم ہو جائے گی۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2537]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2537 in Urdu
محمد الباقر ← جابر بن عبد الله الأنصاري