صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1774. (33) بَابُ الْأَمْرِ بِتَسْمِيَةِ اللَّهِ- عَزَّ وَجَلَّ- عِنْدَ الرُّكُوبِ وَإِبَاحَةِ الْحَمْلِ عَلَى الْإِبِلِ فِي الْمَسِيرِ قَدْرَ طَاقَتِهَا
سواری پر سوار ہوتے وقت بسم اللہ پڑھنے کا حُکم اور سفر میں اونٹ کی طاقت کے مطابق سواری کرنے کی اباحت کا بیان
حدیث نمبر: 2543
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ الزَّعْفَرَانِيُّ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ وَهْبٍ الْوَاسِطِيُّ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، وَرَجَاءُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعُذْرِيُّ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ أَبِي لاسٍ الْخُزَاعِيِّ ، قَالَ: حَمَلَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى إِبِلٍ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ خِفَافٍ لِلْحَجِّ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا نَرَى أَنْ تَحْمِلَنَا هَذِهِ، فَقَالَ: " مَا مِنْ بَعِيرٍ إِلا وَعَلَى ذُرْوَتِهِ شَيْطَانٌ، فَاذْكُرُوا اللَّهَ إِذَا رَكِبْتُمُوهَا كَمَا أَمَرَكُمْ، ثُمَّ امْتَهِنُوهَا لأَنْفُسِكُمْ فَإِنَّمَا يَحْمِلُ اللَّهُ"
سیدنا ابولاس خزاعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سفرحج کے لئے زکوٰۃ کے اونٹوں میں سے کمزور اونٹوں پرسوار کیا۔ تو ہم نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول، ہمارے خیال میں یہ اونٹ ہمیں سواری کا کام نہیں دے سکیں گے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر اونٹ کی کوہان پر ایک شیطان ہوتا ہے تو تم جب ان پر سوار ہونے لگو تو اللہ تعالیٰ کے حُکم کے مطابق اس کا نام لیکر (بسم اللہ پڑھ کر) ان پر سوار ہوجاؤ پھر ان سے خوب اپنی خدمت لو، بیشک (اصل میں) سوار تو اللہ تعالیٰ ہی کرتا ہے (انسان میں اتنی طاقت کہاں کہ وہ ان طاقتوں جانوروں کو اپنے تابع کر سکے)“ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: المناسك/حدیث: 2543]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2377، 2543، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1630، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10428، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18221، 18222، والطبراني فى(الكبير) برقم: 837، 838»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2543 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2543
فوائد:
➊ تمام اسفار کے شروع میں اس دعا کا اہتمام مستحب فعل ہے۔
➋ یہ حدیث دلیل ہے کہ اونٹ پر سوار ہوتے وقت بسم اللہ کہنا اور سفر کی دوسری دعا کا اہتمام کرنا مستحب فعل ہے۔ کیونکہ اونٹ کی کوہان پر شیطان کی دسترس اور سرکشی ہوتی ہے، اس شیطانی جبلت سے محفوظ رہنے کے لیے سوار ہوتے وقت بسم اللہ کہنا بے حد مفید اور انسان کے لیے محفوظ ترین وظیفہ ہے۔ [شرح النووي: 9/11]
➊ تمام اسفار کے شروع میں اس دعا کا اہتمام مستحب فعل ہے۔
➋ یہ حدیث دلیل ہے کہ اونٹ پر سوار ہوتے وقت بسم اللہ کہنا اور سفر کی دوسری دعا کا اہتمام کرنا مستحب فعل ہے۔ کیونکہ اونٹ کی کوہان پر شیطان کی دسترس اور سرکشی ہوتی ہے، اس شیطانی جبلت سے محفوظ رہنے کے لیے سوار ہوتے وقت بسم اللہ کہنا بے حد مفید اور انسان کے لیے محفوظ ترین وظیفہ ہے۔ [شرح النووي: 9/11]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2543]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2543 in Urdu
عمر بن الحكم الحجازي ← ابن لاس الخزاعي