صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1830. (89) باب الإهلال إذا استوت بالراكب ناقته عند مسجد ذي الحليفة
جب سواری اپنے سوار کو لیکر مسجد ذوالحلیفہ کے پاس سیدھی ہوجائے تو اس وقت تلبیہ پکارنے کا بیان
حدیث نمبر: 2613
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ :" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا وَضْعَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ وَاسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ أَهَلَّ"
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اپنا قدم مبارک رکاب میں رکھ لیا اور آپ کی اونٹنی آپ کو لیکر سیدھی ہوگئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلبیہ پکارا۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: المناسك/حدیث: 2613]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1514، 1541، 1552، 2865، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1184، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1194، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2611، 2613، 2763، 2846، 2856، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3762، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2756، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1771، والترمذي فى (جامعه) برقم: 818، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1970، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2916، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9073، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4659، والحميدي فى (مسنده) برقم: 674»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2613 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2613
فوائد:
➊ یہ احادیث امام مالک، امام شافعی اور جمہور کے موقف کی دلیل ہیں کہ احرام میں تلبیہ کہنے کا افضل وقت وہ ہے جب سواری اسے لے کر کھڑی ہو۔ [شرح النووي: 194/8]
➊ یہ احادیث امام مالک، امام شافعی اور جمہور کے موقف کی دلیل ہیں کہ احرام میں تلبیہ کہنے کا افضل وقت وہ ہے جب سواری اسے لے کر کھڑی ہو۔ [شرح النووي: 194/8]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2613]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2613 in Urdu
سالم بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي